The news is by your side.

Advertisement

2 بار اغوا ہوکر بازیاب ہونے والا بچہ، افسانہ نہیں‌ سچی کہانی

گاندھی نگر: بھارتی ریاست گجرات میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے جوڑے کے مغوی بچے کو پولیس نے دوسری بار بازیاب کرالیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریاست گجرات کے علاقے گاندھی نگر کے رہائشی جوڑے کے ساتھ چند ماہ میں دوسری بار یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

متاثرہ ماں مینا واڑی نے بتایا کہ اسپتال سے گھر آنے کے بعد بھی اُن کی مشکلات کم نہیں ہوئیں، پیدائش کے بعد یکم اپریل کو ایک خاتون نرس بن کر آئی اور بچے کو حفاظتی قطرے پلانے کے بہانے اغوا کر کے لے گئی تھی۔

خاتون کے مطابق وہ بھی نرس کے ساتھ اسپتال گئیں تھیں، جہاں اغوا کار خاتون نے انہیں انتظار گاہ میں بیٹھنے کا کہا اور بچے کو لے کر ایک کمرے میں چلی گئی، کئی گھنٹے گزرنے کے بعد ماں نرس کو کمرے میں دیکھنے گئی تو وہ اندر نہیں تھی، جس پر اُس نے رونا دھونا مچایا تو سیکیورٹی پر مامور افراد نے پولیس کو طلب کرلیا۔

پولیس افسر نے خاتون کی شکایت درج کرنے کے بعد بچے کی تلاش شروع کی، انسپیکٹر ایچ پی زالا نے بتایا کہ ’مینا کو مبینہ نرس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی حتی کہ وہ اس کا نام تک نہیں جانتی تھی‘۔

پولیس نے شکایت درج ہونے کے بعد اسپتال کے احاطے میں نصب سی سی ٹی وی کا ریکارڈ نکالا جس میں ایک برقع پوش خاتون گود میں بچے کو لیے مشکوک حرکات کرتی نظر آئی، پولیس نے اس علاقے میں تقریبا 500 رکشہ ڈرائیوروں سے پوچھ گچھ  کی۔ پولیس تحقیقات کرتے مذکورہ خاتون کے اُس گاؤں تک پہنچ گئی جہاں اُسے آخری بار دیکھا گیا۔

گاؤں میں گھر گھر تلاشی کے دوران پولیس ایک خستہ حال فارم ہاؤس میں داخل ہوئی تو اندر ایک خاتون بچے کے ساتھ موجود تھی مگر یہ کوئی اور بچہ تھا البتہ یہاں سے مغوی کے کپڑے برآمد ہوئی، جس کو پولیس نے بڑی پیشرفت قرار دیا۔

پولیس نے کمرے میں موجود خاتون سے سوالات کیے تو معلوم ہوا کہ اُس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ بھاگ گیا ہے، یہ بچہ دوسری بیوی سے تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ’ہم نے اس عورت کے پہلے شوہر کی تلاش شروع کی،  ایک گھر پر چھاپے کے وہ شخص عورت اور بچے کے ساتھ پایا گیا، برآمد ہونے والے بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا تو تصدیق ہوئی کہ وہ مینا کا ہی مغوی بیٹا تھا‘۔ پولیس نے اس جوڑے کو اغوا کے الزام میں گرفتار کیا مگر دونوں عدالت سے ضمانت پر رہا ہوگئے۔

متاثرہ جوڑا بچہ ملنے پر خوش تھے مگر دو ماہ بعد 9 جون کو بچہ دوبارہ لاپتہ ہوگیا، جس پر مینا اور شوہر نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ’مینا بچے کو درخت کے نیچے جھولے میں چھوڑ کر کاٹ کباڑ جمع کرنے گئی، جب وہ واپس آئی تو بچہ موجود نہیں تھا‘۔ جوڑے کی شکایت پر پولیس نے علاقے میں نصب فوٹیج کی مدد سے ایک مشتبہ شخص کو تلاش کیا جس نے مینا کے بچے کو اغوا کیا۔

پولیس کو تفتیش کے دوران مشکوک شخص نے بتایا کہ جس دن بچے کے اغوا ہونے کا واقعہ پیش آیا، اُس روز راجستھان سے اُس کا دوست آیا اور دونوں موٹر سائیکل پر وہاں گئے تھے، اب پولیس نے راجستھان میں پولیس سے رابطہ کیا، جس پر مذکورہ شخص کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مینا کا بچہ بازیاب ہوا۔

اغوا کار شخص اور اہلیہ نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بتایا کہ ’انہوں نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بچے کو اغوا کیا، اغوا کار مینا کے شوہر کے ساتھ مزدوری کرتا تھا، جب اُسے بچے کا معلوم ہوا تو بیوی کے ساتھ مل کر اُس نے اغوا کا منصوبہ بنایا‘۔

پولیس کی کامیاب کارروائی اور اغوا کے چار دن بعد مینا اور کانو کو ان کا بچہ مل گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ‘پولیس اہلکار اب باقاعدگی سے ان کے گھر کا چکر لگاتے  ہیں اور بچے کے لیے تحائف لاتے اور اُس کے ساتھ کھیلتے بھی ہیں کیونکہ انہیں بھی بچے سے پیار ہوگیا ہے‘۔

دونوں بار اغوا کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس افسر زالا نے بتایا کہ ’ہم بچے کو اپنی نظر سے دور یا اوجھل نہیں کرنا چاہتے، اس لیے اب باقاعدہ دیکھ بھال کرتے ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں