The news is by your side.

Advertisement

امریکی خاتون کے خلیے جو 70 سال بعد بھی فروخت کیے جا رہے ہیں

دنیا میں کئی افراد ایسے ہیں جنہوں نے خود نہایت تکلیف دہ زندگی گزاری لیکن ان کی زندگی انسانیت کی محسن ثابت ہوئی، امریکا کی ہنریٹے لیکس بھی ان ہی میں سے ایک ہیں جن کی وجہ سے دنیا کو بے شمار بیماریوں کا علاج ملا۔

افریقی نژاد امریکی خاتون ہنریٹے لیکس سنہ 1951 میں ایک ٹیومر کا شکار ہوئیں، وہ 30 برس کی تھیں جب ان کے پیٹ میں ٹیومر کا انکشاف ہوا۔

ڈاکٹرز نے علاج کے لیے ان کے ٹیومر سے کچھ خلیے نکالے، اس وقت ایسی ٹیکنالوجی نہیں تھی جن کی مدد سے انسانی جسم سے باہر نکالنے کے بعد خلیات کو زندہ رکھا جاتا، چنانچہ خیال کیا گیا کہ ان خلیات کی موت سے قبل ان پر تحقیق کرلی جائے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر یہ خلیات نہ صرف 24 گھنٹے زندہ رہے بلکہ آج تک زندہ ہیں۔

لیکس کے ان خلیات کی مدد سے کینسر اور پولیو جیسی بے شمار بیماریوں پر تحقیق کر کے ان کا علاج دریافت کیا گیا۔

اس علاج کا سہرا جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سر جاتا ہے جس نے دوائیں ایجاد کر کے بہت پیسہ کمایا۔ لیکس کے خلیات دنیا کی ہر لیبارٹری میں آج بھی تحقیق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے خود لیکس کی موت نہایت غربت میں ہوئی، ان کا خاندان 1975 تک غربت کا شکار رہا لیکن اس کے بعد اس خاندان کو ان خلیات کی مدد سے ہونے والی کمائی سے رائلٹی ملنے لگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں