The news is by your side.

فرانس کی تاریخ کا بدنصیب قیدی جسے ناولوں اور فلموں کا موضوع بنایا گیا

زمانۂ بادشاہت کے ایک قیدی کو فرانس کی تاریخ کا بدنصیب قیدی کہا جاتا ہے جس کا نام آج تک کوئی نہیں‌ جان سکا۔ اسے 1669ء میں بادشاہ کے حکم پر گرفتار کر کے زنداں میں دھکیلا گیا تھا اور اسیری کی حالت میں اس کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ وہ 34 تک فرانس کی مختلف جیلوں میں قید رہا۔

آج کے دور جب حکومتیں انسانی حقوق کی ضمانت، آزادیٔ اظہار اور معلومات تک رسائی کا حق دینے کی پابند تصوّر کی جاتی ہیں، ہمارے لیے یہ تعجب خیز اور نہایت پُراسرار بات ہوسکتی ہے۔ بالخصوص ترقّی یافتہ ممالک میں ذرایع ابلاغ کی بدولت جب کوئی خبر لمحوں میں عام ہوجاتی ہے، تو ایسی حراست اور قید کا تصوّر ناممکن ہے، لیکن بادشاہتیں اپنے لامحدود اختیارات کے ساتھ فرماں روا کے غیظ و غضب اور جلال و قہر پر قائم رہی ہیں، اس لیے مؤرخین اس قیدی کے کردار کو من گھڑت اور قصّہ نہیں‌ سمجھتے۔ یہی نہیں بلکہ چند دستاویز اور مکتوب بھی اس قیدی کے وجود کو تقویت دیتے ہیں جو بعد میں دنیا کے سامنے آئے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گرفتاری کے بعد اس شخص کا چہرہ افسران سمیت جیل کا عملہ کبھی نہیں دیکھ سکا، کیوں کہ اس کے چہرے پر ہمیشہ لوہے کا نقاب پڑا رہا۔ اس کی صرف آنکھیں‌ ہی دیکھی جاسکتی تھیں جب کہ حکم کے مطابق کوئی اس قیدی سے غیرضروری بات اور سوال نہیں کرسکتا تھا۔ اس قیدی کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی اور عملہ بادشاہ کے حکم کی سرتابی کا سوچ بھی نہیں‌ سکتا تھا۔

اس بدنصیب شخص پر متعدد ناول لکھے گئے اور اسے فلموں کا موضوع بھی بنایا گیا۔ شاہی دور کے وہ کاغذات جن میں اس قیدی پر مبہم اور مختصر بات کی گئی ہے، محققین نے ان کی بنیاد پر اپنے اپنے انداز سے اس واقعے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ نہیں‌ جان سکے کہ وہ کون تھا اور اس کی اصل شناخت کیا تھی۔

یہ واقعہ ہے سولھویں اور سترہویں صدی عیسوی کے وسط کا کیوں کہ اس بدنصیب قیدی کی موت نومبر 1703ء میں ہوئی تھی۔ اس زمانے میں فرانس پر کنگ لوئس کی حکومت تھی۔

حراست میں لینے کے بعد جب بادشاہ کے خاص سپاہی قیدی کے طور پر اندراج کے لیے اسے جیلر کے پاس لے گئے اور وہاں اس کا نام اور شناخت وغیرہ پوچھی گئی تو سپاہیوں نے جواب دیا، ‘‘نہیں، اس کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ بادشاہ کے حکم پر اسے الگ کوٹھری میں رکھا جائے گا۔ کوئی شخص اس کے قریب ہونے کی کوشش نہ کرے۔ اس سے بات چیت نہ کی جائے۔ بادشاہ کا حکم ہے کہ اس سے سوالات بھی نہ کیے جائیں، صرف کھانا اور پانی اس کے کمرے میں پہنچا دیا کرنا۔’’

اس کے چہرے پر لوہے کی جو نقاب تھی، وہ کسی صورت نہیں اتر سکتی تھی۔ اس شخص کو فرانس کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ اور کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا۔ قیدی بھی بالکل خاموش رہتا تھا۔ کسی نے اسے بولتے ہوئے نہیں سنا۔ یا تو وہ گونگا تھا، یا پھر وہ خود ہی کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ حکومت کا کوئی اہم عہدے دار ہے، جسے کسی قسم کی بدعہدی کی یہ سزا سنائی گئی ہے۔

اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں۔ وہ کون تھا اور اس کا جرم کیا تھا۔ اس کی شناخت کیوں چھپائی گئی تھی….؟ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ دوسری طرف بادشاہ اس کی صحّت کی طرف سے متفکر رہتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ شخص بیمار پڑا تو بادشاہ نے طبیبِ خاص سے اس کا علاج کروایا، لیکن اس طبیب کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا نام اور شناخت کیا ہے؟

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید یہ شخص کسی بہت بڑے راز سے واقف ہے اور بادشاہ اس سے وہ راز اگلوانا چاہتا ہے، اس لیے اسے قید میں رکھا ہوا ہے۔ یا پھر وہ بادشاہ کے کسی ایسے راز سے واقف ہے جس پر بادشاہ اذیت ناک سزا دے کر اپنے انتقامی جذبے کی تسکین کررہا ہے۔

کہتے ہیں کہ موت کے بعد قیدی کے استعمال میں رہنے والی ہر چیز کو بادشاہ کے حکم پر نذرِ آتش کردیا گیا اور مشہور ہے کہ بادشاہ نے یہ کام خود اپنی نگرانی میں کروایا تھا۔ اس بے شناخت آدمی کی لاش بھی جلا دی گئی تھی۔

انیسویں صدی میں‌ اس قیدی کے‌ حوالے سے ملنے والے چند کاغذات بالخصوص اہم عہدے داروں کے مابین خط کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیدی ایک خاص خدمت گار تھا جسے غالباً ایک راز سے واقف ہو جانے پر سزا دی گئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ فرانسیسی بادشاہ کا سوتیلا بھائی تھا۔ 1998ء میں مین ان دی آئرن ماسک کے نام سے بنائی گئی فلم اسی بدنصیب قیدی کی زندگی پر مبنی تھی جس میں لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں