The news is by your side.

عمران خان پر قاتلانہ حملہ، پولیس، سیکیورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں کی تحقیقات جاری

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے سے متعلق پولیس، سیکیورٹی اداروں اور فرانزک ٹیموں کی تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ والے واقعے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، ملزم نوید نے حملے کے لیے نائن ایم ایم پستول کا استعمال کیا، جائے وقوعہ سے گولیوں کے 11 خول ملے ہیں، گیارہ میں سے 9 پستول اور 2 دیگر اسلحے کے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نوید پستول لے کر تیاری کے ساتھ آیا تھا، گرفتاری کے بعد اس کے قبضے سے 2 میگزین اور 20 گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم نوید کے اہلخانہ سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم اب تک کی تفتیش کے مطابق اس کی فیملی کو واقعے کی کوئی معلومات نہیں تھیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ گزشتہ شام حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے وزیر آباد پہنچے تھا جہاں نوید نامی ملزم نے ان پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں عمران خان سمیت 13 افراد زخمی جب کہ ایک کارکن جاں بحق ہوگیا تھا۔

عمران خان کو فوری طور پر شوکت خانم اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں رات گئے ان کا آپریشن کیا گیا، جب کہ واقعے کے بعد ایک ملزم کو موقع پر ہی پکڑ لیا گیا تھا جب کہ دوسرے ملزم کی شناخت ہوگئی جس کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی روانہ ہوگئی ہے۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پی ٹی آئی کی قیادت نے بعد نماز جمعہ ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے اور شہر شہر احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں