منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

کیا پینی لوپی واقعی موجود تھی؟ اداکارہ این ہیتھوے کے کردار نے 3 ہزار سال پرانا راز پھر زندہ کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

قدیم یونانی شاعر ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان ’’اوڈیسی‘‘ کو تقریباً 3 ہزار سال سے بار بار بیان کیا جا رہا ہے۔ اس داستان کی اہم کردار پینی لوپی کیا صرف ایک وفادار بیوی تھی جس نے 20 سال اپنے شوہر کا انتظار کیا، یا اس کی شخصیت اس سے کہیں زیادہ گہری تھی؟

کرسٹوفر نولان کی فلم ’’دی اوڈیسی‘‘ کی اپنے پہلے ہی ہفتے بے مثال اور زبردست کامیابی کے بعد اب ناظرین پینی لوپی کے کردار کو خوب صورت اور شان دار اداکارہ این ہیتھوے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اس افسانوی کردار کے پیچھے کوئی حقیقی خاتون بھی موجود تھی؟

آٹھویں صدی قبل مسیح کے لگ بھگ لکھی گئی ہومر کی رزمیہ داستان ’اوڈیسی‘ میں پینی لوپی، ایتھاکا کی ملکہ اور اوڈیسیئس کی بیوی ہے۔ اوڈیسیئس ٹرائے کی جنگ میں 10 سال گزارنے کے بعد مزید 10 برس اپنے وطن واپس پہنچنے کی جدوجہد میں صرف کرتا ہے، جب کہ اس دوران پینی لوپی تنہا مملکت کو سنبھالے رکھتی ہے۔

اُس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ شادی کے 108 خواستگار محل میں آ بسے تھے، جو اس پر کسی نئے شوہر کے انتخاب کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ دوسری جانب اس کا بیٹا ٹیلیماکس ابھی کم عمر تھا، جب کہ بادشاہ کی عدم موجودگی میں تخت پر قبضے کی کشمکش جاری تھی۔

پریش راول نے سشانت سنگھ کی موت کے بعد میڈیا کوریج کو ’سرکس‘ کہہ دیا

پینی لوپی نے خواست گاروں کو ٹالنے کے لیے ایک مشہور تدبیر اختیار کی۔ اس نے کہا کہ وہ اس وقت تک کسی سے شادی نہیں کرے گی جب تک اپنے سسر لائرٹیز کے لیے کفن تیار نہ کر لے۔ مگر وہ دن بھر کپڑا بُنتی اور رات کو خاموشی سے اسے ادھیڑ دیتی، یوں وقت۔

قدیم مؤرخین اور محققین کے مطابق پینی لوپی محض خاموشی سے انتظار کرنے والی عورت نہیں تھی۔ ایک محقق کے الفاظ میں ’’وہ دراصل اپنے شوہر کی واپسی کے لیے اس کی جگہ محفوظ رکھے ہوئے تھی۔‘‘ وہ ریاستی امور سنبھال رہی تھی، اپنے بیٹے کی جانشینی کو یقینی بنا رہی تھی اور طاقت ور مردوں کو اپنی ذہانت سے شکست دے رہی تھی۔

کیا پینی لوپی واقعی ایک تاریخی شخصیت تھی؟


ہومر نے اپنی داستان میں پینی لوپی کے خاندان کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کیں، جسے بعد کے مصنفین نے مختلف انداز میں مکمل کیا۔ ’اوڈیسی‘ کے مطابق وہ لاکیڈیمون کے بادشاہ آئکاریئس کی بیٹی تھی، جب کہ بعد کے ذرائع میں اس کی والدہ کا نام پیریبوئیا یا پولی کاسٹے بتایا گیا ہے۔ اسے اسپارٹا کے شاہی خاندان سے منسلک کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض روایات میں اسے دیوتا زیوس کی پوتی بھی قرار دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں کہ ایتھاکا کی ’’ملکہ پینی لوپی‘‘ واقعی وجود رکھتی تھی۔ تاہم یونان کے کانسی کے دور پر تحقیق کرنے والی معروف مصنفہ نیٹلی ہینز اور دیگر محققین کے مطابق پینیلوپی کو خواتین کے فعال کردار کی ایک مثالی علامت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

ایک کتاب ’’Penelope’s Bones‘‘ میں ادب، آثارِ قدیمہ، زبان اور ڈی این اے کے تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کانسی کے دور کے یونانی معاشرے میں اگرچہ خواتین کو عموماً ثانوی کردار دیا جاتا تھا لیکن وہ ہر اہم داستان کے لیے ناگزیر تھیں، یعنی اوڈیسی داستان بھی پینی لوپی کی وجہ سے آج تک زندہ ہے۔

آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کانسی کے دور کی یونانی خواتین کپڑا بُنتی تھیں، گھریلو معاملات چلاتی تھیں اور بعض اوقات سیاسی اختیار بھی رکھتی تھیں۔ اب محققین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کپڑا بُننا صرف گھریلو کام نہیں تھا بلکہ معاشی طاقت کی علامت تھا، اور کفن کی تیاری کو اپنے قابو میں رکھ کر پینی لوپی نے دراصل جانشینی کے عمل کے وقت کو بھی اپنے اختیار میں رکھا ہوا تھا۔

شاید پینی لوپی کی باقیات کبھی دریافت نہ ہو سکیں، لیکن اُس کی کہانی اُن مائسینیائی رانیوں کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جنھیں جنگ، جدائی اور شاہی دربار کی خطرناک سیاست کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

کرسٹوفر نولان کی ’دی اوڈیسی‘ میں این ہیتھوے


تقریباً 150 ملین پاؤنڈ کے بجٹ سے بننے والی، آئی میکس 70 ایم ایم فارمیٹ میں فلمائی گئی کرسٹوفر نولان کی اس نئی فلم میں میٹ ڈیمن اوڈیسیئس، ٹام ہالینڈ ٹیلیماکس اور این ہیتھوے پینی لوپی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

این ہیتھوے کے نزدیک پینی لوپی ہرگز ایک بے بس اور مصیبت زدہ عورت نہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’لوگ اسے ایک ایسی عورت سمجھ سکتے ہیں جو خاموشی سے صرف انتظار کرتی رہی، لیکن میں نے اسے اس طرح نہیں دیکھا۔ میرے نزدیک وہ اپنے شوہر کی ایک غیر معمولی، متحرک اور ہر حال میں ساتھ نبھانے والی ساتھی ہے۔‘‘

وہ پینی لوپی کو ایک ایسی شخصیت قرار دیتی ہیں جس میں خطرات کا شعور بھی ہے اور جو اپنے پورے جوش و جذبے کے ساتھ محبت کرنے والی عورت ہے۔ اس کردار کی تیاری کے لیے این ہیتھوے نے باقاعدہ کپڑا بُننا سیکھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں