The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی نژاد کم عمر ترین خاتون تیسری بار برطانیہ کی کونسلر منتخب

لندن : برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد کم عمر ترین خاتون صوفیا چوہدری برطانوی انتخابات میں‌ مسلسل تیسری بار ایٹموربار کونسل کی کونسلر منتخب ہوکر ریکارڈ قائم کردیا.

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد صوفیا چوہدری مسلسل تیسری بار حالیہ دنوں ہونے والے انتخابات میں ایٹموربار کونسل کی کونسلر منتخب ہوئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا صوفیا چوہدری نے حالیہ الیکشن میں اپنی سابقہ خدمات اور بے حد مقبولیت کے باعث پہلے سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

واضح رہے کہ صوفیا ٹوری پارٹی کی رکن ہیں، سنہ 2017 اور 2018 میں ریٹمور بار کی میئر بھی منتخب ہوچکی ہیں تاہم انہوں نے اسی ماہ عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کسی پاکستانی خاتون کا مسلسل تیسری بار کونسلر بننا ایک ریکارڈ ہے۔

صوفیا چوہدری کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میری تمام کامیابیاں میرے والدین کی وجہ سے ہیں انہوں نے ہمیشہ میرے رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جس وجہ سے میں اس مقام پر پہنچی ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بطور میئر اپنی بہن اور میئر عتیقہ چوہدری کے تعاون سے تمام برادریوں کے لیے بے تحاشہ خدمات انجام دی ہیں اور کوشش کی ہے کہ کام میں کوئی کمی باقی نہ رہے، اسی لیے اپنی منتخب چیریٹیز کے لیے بھی معقول رقم جمع کررکھی ہے‘۔

کونسلر صوفیا چوہدری کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایسا ملک جہاں پاکستان اور دیگر ممالک کے افراد کے لیے ترقی کے بہت مواقع موجود ہیں، جن لوگوں میں ٹیلینٹ موجود ہے انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور وہ اپنی مرضی کے عہدے پر فائز ہوکر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کی کافی تعداد سیاست میں حصّہ لے رہی ہے لیکن اس سے زیادہ افراد کو آگے آنا چاہئے باالخصوص نوجوان خواتین کو کیوں کہ ان کی وجہ سے برادری کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔

صوفیا کا کہنا تھا کہ میرے والد گذشتہ 30 برس تک کونسلر رہے اور میئر و ڈپٹی میئر بھی منتخب ہوچکے ہیں، وہ گذشتہ 30 برس کے زائد عرصے سے برطانوی سیاست میں موجود ہیں، چوں کہ میں سیاسی گھرانے میں آنکھ کھولی اور ذہین بھی سیاست کی طرف تھا تو میں بھی سیاست میں آگئی۔

صوفیا چوہدری کا کہنا تھا کہ سیاسی گھرانے میں ہونے کے باعث میں تعلیم بھی شعبہ قانون میں حاصل کرکے سالیسٹر بنی۔

ان کا مزہد کہنا تھا کہ وہ تمام کمیونیٹیز کی یکساں خدمت کرنے کا جذبہ رکھتی ہوں، اسی لیے سیاست میں اور آگے جانا چاہتی ہوں۔ پاکستانی شہری برطانیہ میں اپنی مرضی کی سیاسی پارٹی کی رکنیت اختیار کریں لیکن سیاست میں ضرور حصّہ لیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں