نواز شریف اور لیگی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں تصویر کی اندرونی کہانی -
The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف اور لیگی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں تصویر کی اندرونی کہانی

روالپنڈی: نواز شریف اور لیگی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں تصویر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی، سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی موبائل فون چھپا کرجیل لے گئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق ن لیگی رہنماؤں نے جیل کو ن لیگی دفتر بنا دیا، ایفی ڈرین کیس کے مجرم حنیف عباسی نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔

جس وقت نواز شریف کی رہائی کے معاملات چل رہے تھے اس وقت حنیف عباسی جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں نواز شریف کے ساتھ موجود تھے، حنیف عباسی کس حیثیت میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے دفترمیں موجود تھے؟

دوسری طرف مرتضیٰ جاوید عباسی موبائل فون چھپا کر جیل لے گئے اور فون سے تصویر کھینچ کر بیٹے کو بھیجی، حسین مرتضیٰ نے تصویر ٹویٹر پر اَپ لوڈ کی۔

ن لیگی رہنما مٹھائی بھی جیل کے اندر لے گئے تھے، تاہم جیل کے کسی اہل کار نے انھیں نہیں روکا، جیل قواعد کے مطابق مٹھائی یا کیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔


مزید تفصیل پڑھیں:  نواز شریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر جیل سے رہا، جاتی امرا پہنچ گئے


جیل قواعد کے مطابق عمر قید کے مجرم سے ملاقات کا وقت شام چار بجے تک ہوتا ہے، ایسے میں حنیف عباسی کیسے نواز شریف سے ملنے چلے گئے۔

ن لیگی رہنماؤں نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی رہائی کے موقع پر قانون کی دھجیاں اڑا دیں لیکن انھیں کوئی بھی روکنے والا نہیں تھا۔

خیال رہے کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزائیں معطل کردیں اور انھیں رہا کر دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں