The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں دیگر عمارتوں کے انہدام کا خطرہ

راتوں رات 22 فلیٹس اور ایک پینٹ ہاوس کے مکین بے گھر ہوگئے: رنچھوڑلائن متاثرین

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں زیر تعمیر عمارت کو خطرناک قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایس بی سی اے کی کمیٹی نے لیاقت آباد میں زیرتعیر عمارت کو خطرناک قرار دیا، بندھانی کالونی میں اس رہائشی پلاٹ پر غیر قانونی تعمیر کی گئی، عمارت تعمیر کے دوران ہی اپنی جگہ چھوڑنے لگی ہے۔

ایس بی سی اے نے احتیاطی تدابیر اپنانے کے بعد کارروائی شروع کردی۔ کمیٹی نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کی انہدامی کارروائی کی جائے، مذکورہ عمارت کا نقشہ بھی ایس بی سی اے سے منظور شدہ نہیں ہے۔

دوسری جانب رنچھوڑلائن میں عمارت گرنے سے متاثرہ افراد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راتوں رات 22 فلیٹس اور ایک پینٹ ہاوس کے مکین بے گھر ہوگئے، پولیس اور رینجرز حکام نے ہمارے ساتھ بڑا تعاون کیا، عمارت میں 215 افراد رہائش پذیر تھے، شکر ہے جانی نقصان نہیں ہوا۔

کراچی: رنچھوڑ لائن میں 6 منزلہ عمارت گرگئی

متاثرین کا کہنا تھا کہ جلد از جلد متاثرہ افراد کو متبادل جگہ دی جائے، کمشنر کراچی نے تعاون کا یقین دلایا مگر تاحال اب تک کچھ نہیں ہوا۔ گرنے والی عمارت کے پلاٹ کے مالک کا اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے، مالک سلیمان سومرا نے قبول کرلیا کہ دکانوں پر عمارت تعمیر ہوئی۔

سلیمان سومرو کا کہنا تھا کہ دکانوں کی فاؤنڈیشن پر 6 منزلہ عمارت بنائی گئی، علم نہیں عمارت میں استعمال مواد کیسا تھا، میں نے 280 گز کے پلاٹ پر دکانیں تعمیر کرائیں، بلڈر نے مجھ سے صرف چھت خریدی تھی۔

یاد رہے کہ 30 دسمبر کو کراچی میں رنچھوڑ لائن سومرا گلی میں ایک طرف جھکنے والی عمارت منہدم ہوگئی تھی، خوش قسمتی سے مخدوش عمارت سے تمام افراد کو نکال لیا گیا تھا۔

عمارت ایک طرف جھکنے پر تمام مکینوں کو بروقت نکال لیا گیا تھا، گرنے والی عمارت میں موجود 19فلیٹس میں شہری رہائش پذیر تھے، مخدوش عمارت جس جگہ گری اس جگہ پر خالی گودام تھے۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مخدوش عمارت گرنے کا نوٹس لیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں