The news is by your side.

Advertisement

دی سائنس ٹرائب- فلکیاتی سائنس کا پہلا آن لائن پاکستانی جریدہ

پاکستان کے باہمت نوجوانوں نے ملک میں سائنسی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے’ دی سائنس ٹرائب ‘ نامی آن لائن جریدے کا آغاز کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انگریزی زبان میں جاری کردہ ’دی سائنس ٹرائب‘ نامی اس جریدے میں تمام تر مضامین پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد نے تحریر کیے ہیں، اور یہ تمام مصنفین اپنے اپنے شعبوں میں مہارتوں کے حامل افراد ہیں۔

دی سائنس ٹرائب ، آسٹروبائیولوجی نیٹ ورک آف پاکستان ( اے بی این پی )کی جانب سے شائع کیا ہے ، یہ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی غیر منعفت بخش تنظیم ہے جس کا مقصد پاکستان میں سائنس بالخصوص فلکیات کے میدان تعلیمی پیش رفت کی راہیں ہموار کرنا ہے۔

اے بی این پی کے روح رواں جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد سائنسداں ڈاکٹر نزیر خواجہ ہیں ،جن کا مشن پاکستان کے نوجوانوں کو سائنس کی جانب راغب کرکے دنیا بھر میں موجود مواقع سے انہیں روشنا س کرانا ہے ۔

ان کے زیرِ نگرانی یہ جریدہ پاکستان میں سائنسی نظریات کے فروغ اور نوجوانوں کو سائنس پر مضامین لکھنے کی نہ صرف تحریک دے گا بلکہ اپنا پلیٹ فارم بھی مہیا کرے گا۔ مقامی سطح پر انگریزی میں سائنسی مضامین لکھنے کا یہ سلسلہ پاکستان کے نوجوانوں کو دنیا بھر میں شائع ہونے والے سائنسی جریدوں تک رسائی میں مدد فراہم کرے گا اور بلاشبہ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے مستقبل کا دروازہ ثابت ہوگا۔

جریدے کی ایڈیٹر صادقہ خان نےاے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم پر امید ہیں کہ یہ جریدہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں گی کہ ملک بھر سے سائنسی مضامیں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان ان کے اس مشن کا حصہ بنیں اور انہیں اپنی تحاریر ارسال کریں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا پاکستانی جریدہ ہے جو سائنسی مضامین بالخصوص فلکیات کی دنیا کا احاطہ کرے گا۔ اس جریدے کا پہلا ایڈیشن اسی لیے معروف فلکیاتی سائسنس داں اسٹیفن ہاکنگ کی سالگرہ کے دن شائع کیا گیا ہےاور ان کی زندگی ، شخصیت اور کام کے حوالے سے خصوصی مضامین بھی شائع کیے گئے ہیں۔

دی سائنس ٹرائب کی ٹیم کوشاں ہیں کہ مستقبل وہ اپنےاس آن لائن جریدے کو پرنٹ کی شکل میں لا کر باقاعدہ طریقے سے یونی ورسٹیز اور کالجز کے طلبہ وطالبات تک پہنچانے کا اہتمام کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں