The news is by your side.

قائمہ کمیٹی نے نیب ترمیمی بل 2022 کی منظوری دیدی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نیب ترمیمی بل 2022 کی منظوری دیدی ہے وزیر مملکت برائے قانون کا کہنا ہے کہ بل کہاں تیار ہوا بتا نہیں سکتا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نیب ترمیمی بل 2022 کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون سینیٹر شہادت حسین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کیخلاف کیس نہ بنتا ہو تو نیب کیس واپس لے سکتا ہے جب کہ اگر بند کیس کھلوانا ہو تو نئے شواہد پر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے قانون کا مزید کہنا تھا کہ پہلے صرف پراسیکیوٹر جنرل مقدمہ واپس لینے کیلیے بااختیار تھا۔ اب پراسیکیوٹر جنرل اور چیئرمین نیب مل کر ہی کیس واپس لے سکیں گے۔ نیب طلبی کا نوٹس دینے پر کیس کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنے کا پابند ہوگا۔

سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ سے زائد رقم نکلوانے پر بینک نیب کو آگاہ کرتا ہے۔ اس پر رکن کمیٹی زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ آج کل 20 لاکھ کی کیا اوقات ہے؟ اس سے زیادہ رقم تو کاروباری افراد روز ہی نکالتے جمع کراتے رہتے ہیں، جس پر کمیٹی نے بینک سے رقم نکلوانے پر نیب کوآگاہ کرنے کی حد بڑھا کر 50 لاکھ کر دی۔

وزیر مملکت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک ملزم پلی بارگین کرے تو اس سے باقیوں کا کیس متاثر نہیں ہوگا۔ ملزمان کو انکی عدم موجودگی میں سزا نہیں ہو سکے گی۔ جو ملزم مفرور ہوکر باہر بھاگ جائے اسے سزا کیسے ہوگی؟ مفرور کو گرفتاری پر ہی سزا ہو سکے گی۔

اس موقع پر پی پی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ مناسب ہوگا اگر تمام جماعتیں ترامیم پر متفق ہوں تاکہ یہ ترامیم برقرار رہ سکیں۔ ایک اور خاتون رکن عالیہ کامران نے کہا کہ پہلے ہی کہا جا رہا ہے قانون سازی اپنے لیے کی جا رہی ہے۔ اس قسم کی ترمیم سے تاثر مزید بُرا جائے گا۔

شہادت اعوان نے اعتراض پر کہا کہ بل کہاں تیار ہوا بتا نہیں سکتا۔ ان کیمرا اجلاس ہوتا تو تفصیلات بتا سکتا تھا آپ معاملے کو سمجھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں