The news is by your side.

Advertisement

تھائی حکومت دھوکے کا شکار ہوگئی

بنکاک: تھائی لینڈ کی حکومت کا بڑی مقدار میں 1 ارب ڈالر مالیت کی ممنوعہ دوا پکڑنے کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا، لیبارٹری رپورٹ حقیقت سامنے لے آئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں تھائی لینڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھاری مالیت کی ممنوعہ دوا ‘کیٹامائن’ پکڑی ہے۔ یہ ڈرگ عموماً نشے کے طور پر استعمال ہونے کے علاوہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس پر پابندی عائد ہے۔

A handout photo made available by the Office of Narcotics Control Board (ONCB) shows the Thai police officers and relevant authorities inspect after seized Ketamine inside a warehouse at Bang Pakong District in Chachoengsao province, Thailand, 12 November 2020.

رپورٹ کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ قبضے میں لی جانے والی دوا کیٹامائن نہیں بلکہ کیمیائی مادہ ‘ٹری سوڈیم پوشیٹ’ ہے جس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

Thai authorities announced the seizure of what was believed to be ketamine on November 12.

تھائی وزیر انصاف سمسوک نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر شے کی جانچ ٹھیک سے نہیں کرسکے۔ ٹری سوڈیم پوشیٹ گھر کی سفائی ستھرائی کے لیے بننے والے پراڈکٹس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

سمسوک کا کہنا تھا کہ بیگز میں کیٹامائن کی بجائے ٹری سوڈیم پوشیٹ موجود تھا، ہمیں اس لیے دھوکا ہوا کہ دونوں اشیا کے ٹیسٹ نتائج تقریباً ملتے جلتے ہوتے ہیں، اور لیبارٹی تجربے کے دوران دونوں کا ری ایکشن کلر پرپل آتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے 66 بیگز کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں جبکہ دیگر کے کیے جارہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں