The news is by your side.

Advertisement

عالمی ادارہ خوراک نے فلسطینیوں کو خوراک کی فراہمی بند کردی

یروشلم : اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے بے سہارا فلسطینیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک بند کردی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ فلسطین پر قابض غاصب صیہونی ریاست کے جابرانہ تسلط کے باعث بے گھر و بے سہارا ہونے والے فلسطینی شہریوں کی امداد کرنے والا عالمی ادارہ خوراک بھی اسرائیلی نقش قدم پر گامزن ہوگیا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے عالمی ادارہ خوراک تقریباً 2 لاکھ بے گھر و نادر فلسطینی شہریوں کو خوراک فراہم کرتا تھا جو بند کردی گئی ہے۔

فلسطینی خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ یہ خوراک غزہ کی پٹی اور فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد افراد کو دی جاتی تھی۔

خبر ایجنسی کے مطابق عالمی ادارہ خوراک کے مذکورہ اقدام کے باعث 2 لاکھ قریب فلسطینی برائے راست جبکہ لاکھوں فلسطینی شہری بالواسطہ متاثر ہوں گے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک کے جاری کردہ بیان کے مطابق آئندہ جنوری میں فلسطینیوں کے خوراک میں تبدیلی کی جائے گی جس کے بتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے میں 24 ہزار فلسطینی شہری امداد سے محروم ہوں گے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب کا فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے 5 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

واضح رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے گذشتہ ماہ فلسطینی شہریوں کے لیے 5 کروڑ ڈالرز کی امداد بھیجوائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی اونروا غزہ، اردن، لبنان اور شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرتی ہے۔

رواں سال امریکا نے اس ادارے کو دی جانے والی مالی امداد بند کردی تھی جس کے نتیجے میں ایجنسی کو غیرمعمولی مالی مشکلات درپیش ہیں اور ادارہ اپنی کئئی سروسز بند کرنے اور ملازمین کو نکالنے پر مجبور ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں