The news is by your side.

Advertisement

عالمی ادارہ صحت کا کرونا ویکسین سے متعلق بڑا انکشاف

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ یہ بات یقینی نہیں لگتی کہ سائنس دان کروناوائرس کے خلاف مؤثر ویکسین تیار کرلیں، ممکنہ طور پر اس کے لیے سال لگ سکتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حتمی طور پر کروناویکسین سے متعلق رائے قائم نہیں کی جاسکتی، اگر کوئی ویکسین تیار بھی ہوتی ہے تو اس کے لیے سال لگے گا، وبا کے خلاف علاج کی دریافت پر کام جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ویڈیو کانفرنس کے ذریعے یورپی پارلیمیٹ کے ہیلتھ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اگر ویکسین کی تیاری حقیقت ثابت ہوتی ہے تو یہ پوری دنیا کے لیے قابل استعمال ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ویکسین کے حصول کو حقیقت کہنا بہت مشکل ہے، امید ہے کہ ماہرین علاج دریافت کرلیں، عالمی ادارہ صحت سے منسلک 100 کمپنیاں ویکسین کی تیاری پر کام کررہی ہیں، جن میں سے ایک حتمی اور فائل مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، ویکسین کی تیاری کی رفتار بڑھا دی جائے تب بھی کافی وقت لگے گا۔

کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچی تو ….. ڈبلیو ایچ او نے خطرے کی گھنٹی بجادی

خیال رہے کہ دنیا بھر میں 100 سے زائد کمپنیاں کرونا ویکسین کی تیاری پر کام کررہی ہیں، جن میں سے کچھ پہلے مرحلے جبکہ کچھ دوسرے مرحلے میں ہیں۔ چند کمپنیاں ایسی ہیں جنہوں نے کلینکل ٹرائل اور جانوروں پر تجربات کرلیے اور اب انہیں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں