site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

دنیا کے خاموش ترین مقام پر وقت گزارنا کیسا ہوگا؟

کیا آپ نے کبھی کسی ایسی جگہ کا دورہ کیا ہے جہاں بالکل خاموشی ہو اور کوئی آواز نہ ہو؟

شاید آپ میں سے بہت سے افراد کسی جنگل کے اندر، پہاڑ تلے، یا سنسان سڑک پر گزاری گئی شام کے بارے میں سوچیں کہ وہ شام آپ کی زندگی کی خاموش ترین شام اور خاموش ترین مقام تھا۔

آپ کو اس جگہ پر جا کر کیا محسوس ہوا؟

یقیناً آپ کا جواب ہوگا کہ وہ شام ایک بہترین شام تھی۔ اس سے آپ کے دماغ اور اعصاب کو سکون ملا اور آپ نے اپنی تخلیقی صلاحیت میں اضافہ محسوس کیا۔

خاموشی کے فوائد *

لیکن درحقیقت ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ جگہ خاموش ترین جگہ تھی ہی نہیں۔

اسے دیکھیئے۔

room-1

یہ دنیا کا مصدقہ خاموش ترین مقام ہے اور سائنسی مقصد کے لیے اسے مائیکرو سافٹ کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے۔

امریکی ریاست منیسوٹا میں واقع یہ کمرہ اس قدر خاموش ہے کہ یہاں داخل ہو کر آپ اپنے دل کی دھڑکن، سانس اور پیٹ کے اندر کھانے کے ہضم ہونے کی آوازیں تک سن سکتے ہیں۔

اس کمرے کی دیواروں کو تین فٹ موٹے ساؤنڈ پروف فائبر گلاس، اسٹیل اور پتھر سے بنایا گیا ہے اور یہ باہر سے آنے والی 99.99 آوازیں اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

اس کمرے کو ’ان ایکوئک‘ یعنی بے گونج یا بے آواز کمرے کا نام دیا گیا ہے۔

شور شرابہ کے نقصانات *

اس کمرے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جاننا ضروری ہے کہ ایک انسان صفر ڈیسیبل تک دھیمی آواز سن سکتا ہے۔ ڈیسیبل کسی شے کی طبعی موجودگی کو ناپنے کا کم ترین پیمانہ ہے۔ اس کمرے میں موجود (یا غیر موجود) آواز کی پیمائش منفی 9.4 ڈیسیبل ہے یعنی انسانی کان کے ہلکی ترین آواز سننے کی صلاحیت سے بھی کم۔

لیکن اس کمرے میں جا کر کیسا محسوس ہوتا ہے؟

اس بات کو جانچنے کے لیے مائیکرو سافٹ کے ایک انجینئر گوپال پرپدی نے اس کمرے کے اندر کچھ وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔

جب ہم کسی خاموش مقام پر جاتے ہیں تب بھی ہمارا کان فطرت کی کئی آوازیں سن رہا ہوتا ہے، دور پانی بہنے کی آواز، ہوا کی آواز، پرندوں کی چہچہاہٹ، آپ کے قدموں کی آواز۔ لیکن یہ کمرہ ان تمام آوازوں سے پاک ہے۔

گوپال پرپدی کے مطابق جب وہ اس کمرے میں داخل ہوئے اور دروازہ بند ہوا، تو پس منظر کی تمام آوازیں یکدم غائب ہوگئیں اور گہرا سکوت طاری ہوگیا۔

room-2

چند سیکنڈز بعد ہی انہوں نے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس کیا اور اس کے بعد انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی غار میں سفر کر رہے ہوں۔ ساتھ ہی انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ ان کا جسم بے جان ہوگیا ہے اور وہ حرکت نہیں کرسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر وہ مزید کچھ دیر اس کمرے میں ٹہرتے تو انہیں ڈر تھا کہ شاید ان کا دماغی توازن ٹھیک نہ رہ پاتا۔

یقیناً آپ ایسا نہیں چاہیں گے لہٰذا اپنے ارد گرد موجود آوازوں کی قدر کیجیئے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top