The news is by your side.

Advertisement

امریکا اور طالبان کے درمیان آج پھر مذاکرات ہوں گے

دوحا : افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے امریکا اورافغان طالبان کے درمیان آج پھر مذاکرات ہوں گے، ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات کا حصّہ نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی اور نیٹو فورسز کے افغانستان سے انخلاء کےلیے پاکستان کے تعاون سے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان قطر میں گزشتہ کئی روز سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، دو روزہ وفقے کے بعد آج پھر دوحا میں امن مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان کو امید ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے بعد غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی، غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان میں سرگرم مسلح گروپس آپس میں مذاکرات سے تنازعات کو حل کریں گے۔

سہیل شاہین نے امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی حکام کے ساتھ دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی شامل نہیں ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات میں جنگ بندی شامل نہیں۔

ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ استحکام کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، مذاکرات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حل نہ نکل جائے، امید ہے جلد معاہدہ ہوجائے گا۔

ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف مذاکرات میں دو روز کا وقفہ دیا گیا تھا تاکہ دونوں فریق آپس میں اور اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کرسکیں۔

 

مزید پڑھیں: افغان طالبان نے اشرف غنی کی پیش کش مسترد کردی

یاد رہے کہ افغان طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کی شہر میں دفتر کھولنے کی پیش کش مسترد کردی تھی۔

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا مقصد افغان میں گزشتہ 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں امن و امان کا قیام ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلاء کا اعلان کیا ہے جبکہ طالبان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان طالبان افغانستان سے داعش کا چند دنوں میں خاتمہ کرسکتے ہیں۔

افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے پاکستان سمیت دیگر ملکوں کا دورہ کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں