The news is by your side.

Advertisement

ہیتھرو ایئرپورٹ کی توسیع کے معاملے پر تھریسامے اور بورس جانسن شدید دباؤ کا شکار

لندن: برطانوی رکن پارلیمنٹ گریگ ہینڈز کی جانب سے استعفیٰ کی دھمکی کے بعد ہیتھرو ایئرپورٹ میں توسیع کے معاملے پر برطانوی وزیر اعظم تھریسامے اور وزیر خارجہ بورس جانسن شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیتھرو ایئرپورٹ کی توسیع کی زد میں آنے والے علاقے کے انتخابی حلقے کے رکن پارلیمںٹ گریگ ہینڈز نے دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے تاکہ وہ ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے کی تعمیر کے خلاف حکومت کے خلاف ووٹ دے سکیں۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن بھی ہیتھرو ایئرپورٹ میں توسیع کے شدید مخالف ہیں انہوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اصولوں پر قائم رہیں گے اور حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے گزشتہ روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بورس جانسن اگلے ہفتے ملک سے باہر ہوں گے اور اس طرح انہیں تھریسامے کے خلاف بغاوت اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرنے سے بچ نکلنے کا موقع مل جائے گا۔

دوسری جانب لیبر پارٹی نے بورس جانسن سے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر لیبر کا ساتھ دیں، رکن پارلیمنٹ چیل سی وارفل ہیم بھی توسیعی منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں اور وہ اس مخالفت کے نتیجے میں کیبنٹ میں اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کو بھی تیار ہیں۔

رکن پارلیمنٹ چیل سی وارفل ہیم نے کہا ہے کہ بورس جانسن کمزور ہیں اور اپنا عہدہ برقرار رکھنے کے لیے بیرون ملک جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ سے 14 بلین پونڈ مالیت کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے توسیعی منصوبے کی منظوری دی جائے گی، کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ کو کہا گیا ہے اس کے حق میں ووٹ دینے کے لیے وہپ کی تین لائنیں تیار کی گئی ہیں جبکہ لیبر پارٹی نے اپنے ارکان کو اس حوالے سے ووٹ دینے یا نہ دینے کے بارے میں چھوٹ دے دی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں