The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں حق کے لیے لڑنے والے دہشت گرد نہیں بلکہ مجاہدین ہیں: پرویز مشرف

کراچی: آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں کو شہید کر کے دہشت گردی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں حق کے لیے لڑنے والے دہشت گرد نہیں بلکہ کشمیری مجاہدین ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا، پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ کشمیری مجاہدین خود سے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، نہتے کشمیری تو صرف پتھروں سے بھارتی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1990 میں کشمیریوں کو جس طرح مارا گیا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور آج بھی ظلم و بربریت کی بھارتی افواج نے انتہا کر رکھی ہے جبکہ بھارت نے دنیا بھر میں یہ راگ الاپا کہ صرف ون ٹو ون بات ہوگی، ماضی میں امریکا میں ہمارے اس وقت کے وزیر اعظم کشمیر کا نام تک نہیں لیتے تھے۔


نواز شریف کا پاک فوج کوبدنام کرنا انتہائی افسوس ناک ہے: پرویز مشرف


سربراہ اے پی ایم ایل کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے جو پاکستان میں کیا وہ سب کے سامنے ہے، نواز شریف کی مودی سے دوستی ہے وہ بھارت کے خلاف کبھی بات نہیں کریں گے جبکہ بھارت پاکستان کو ہر سطح پر غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ امریکا اور بھارت سی پیک کے خلاف ہیں۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 لگتا ہے تو کئی لوگوں پر لگ سکتا ہے، نواز شریف نے ملک اور فوج کو بدنام کر کے غداری کی ہے، عدالتوں سے انصاف کی امید ہے، میرے پاکستان آنے میں نواز شریف کی حکومت رکاوٹ ہے، ن لیگ کی حکومت مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتی ہے۔


نواز شریف ناکام سیاست دان ہیں لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں، پرویز مشرف


پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کرنل جوزف کو ملک سے باہر جانے نہیں دینا چاہئے تھا، سفارتی استثنیٰ سے متعلق زیادہ کچھ علم نہیں ہے، اس نے لوگوں کو مارا ہے تو کیسے ملک سے جانے دیا گیا، ریمنڈ ڈیوس کو بھی پاکستان سے نہیں جانے دینا چاہیئے تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں صورت حال بہت کنٹرول میں ہے، بلوچستان کے کچھ سردار کے اپنے قبیلے بھی ان کے ساتھ نہیں ہیں، پاک فوج نے بڑی قربانیوں کے بعد ملک میں امن بحال کیا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوام نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں