The news is by your side.

Advertisement

چوروں نے معذور بچی کا اثاثہ بھی نہیں بھی چھوڑا

لندن : ریڑھ کی ہڈی کی بیماری کے باعث پیدائشی معذور بچی کی اشارے کنائیوں سے گفتگو کرنے والی مشین چوری ہونے کے سبب والدین کو اپنے احساسات اور ضرورت بتانے سے قاصر ہوگئی ہے۔

معذور بچی کی پیدائش کے بعد والدین کے لیے یہ دوسرا سانحہ تھا کیوں بچی کو اپنی بات سمجھانے میں مدد کرنے والی ڈیجیٹل مشین چوری ہو گئی ہے اور اب پیچیدہ مرض میں مبتلا ’اسپیشل چائلڈ‘ اپنے ماں باپ کو معمولی سی بات بھی سمجھانے میں مشکل کا سامنا کر رہی ہے۔

بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 16 سالہ مِیا تھرلبے خصوصی طور پر تیار کی گئی ڈیجیٹل مشین کے ذریعے ہی دیگر لوگوں سے گفت و شنید کرپاتی تھی جس کی لاگت 6 ہزار پاؤنڈز ہے تاہم اب وہ مشین چوری ہو چکی ہے جس کے باعث یوں محسوس ہوتا ہے کہ ِمیا دوبارہ سے معذور ہو گئی ہے۔

 

میا تھرلبے ایک ایسی بیماری کا شکار ہے جس میں بچے چلنا، اُٹھنا، بیٹھنا اور کروٹ لینا تو دور کی بات اپنی گردن تک سیدھی نہیں رکھ پاتے ہیں اور وہ ہاتھوں، آنکھوں اور چہرے کے اشارے یا حرکت سے بھی اپنی بات سمجھانے سے قاصر ہوتے ہیں ایسے بچے خصوصی طور پر تیار کی گئی ایک مشین کے ذریعے ہی ’کمیونیکیٹ‘ کر پاتی تھی۔

معذور بچی کے والد پاؤل جانسن نے بتایا کہ پیر کو رات گئے ایک چور نے اُن کی گاڑی کا شیشہ توڑ کر قیمتی اشیاء چرالی ہیں جس میں وہ اہم مشین بھی شامل ہیں جس کے باعث بچی اور اہل خانہ بہت پریشان ہیں کیوں کہ ایسے بچے اشاروں اور کنائیوں سے بھی گفتگو کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

پاؤل جانسن نے مشین چوری ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر شیئر کی جس کے بعد یہ دکھ بھری داستان ایک ٹرینڈ اختیار کر گئی اور سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے پاؤل جانسن کو نئی میشن کی پیشکش بھی کی۔

 

 

پاؤل جانسن نے برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اجنبیوں کی جانب سے نئی مشین کی پیشکش پر ان سب کا شکر گذار ہوں بالخصوص سابق برطانوی فٹبالر ایلن شیئریر کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے یہ خبر سننے کے بعد فوری رابطہ کیا اور نئی مشین کی پیشکش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کا تعاون قابل ستائش ہے لیکن میری خواہش ہے کہ چور اگر ذرا بھی انسانیت رکھتے ہیں تو وہ مشین خود واپس کردیں کیوں کہ مِیا اُس مشین سے کافی انسیت بھی رکھتی ہے اور اس کے چوری کے بعد سے وہ بہت مشکل میں ہے.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں