The news is by your side.

Advertisement

فرانس کے بعد جرمنی میں بھی شدت پسندی کی سوچ میں اضافہ

برلن: فرانس کے بعد ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جرمنی میں بھی عسکریت پسندی کی سوچ شہریوں میں سرائیت کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز فرانس کی پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے سرکاری اداروں میں شدت پسندی کی سوچ سرائیت کررہی ہے، جبکہ جرمنی میں بھی ایسی صورت حال کا سامنا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں عسکریت پسندی کے حامی اور ممکنہ طور پر خطرناک سمجھے جانے والے مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر چھبیس ہزار پانچ سو ساٹھ ہو گئی ہے۔

ایک سال پہلے یہ تعداد پچیس ہزار آٹھ سو دس تھی، جرمنی کے کے اخبار نے یہ اعداد و شمار شائع کرتے ہوئے ایک سالانہ سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیا۔

یہ رپورٹ داخلی سلامتی کے ذمے دار جرمن انٹیلیجنس ادارے بی ایف وی نے تیار کی، رپورٹ کے مطابق جرمنی پہلے کی طرح اب بھی جہادی تنظیموں کے نشانے پر ہے۔

فرانس کے ریاستی اداروں میں شدت پسندی سرائیت کرنے لگی

اس کے علاوہ جہادی تنظیم داعش جرمنی میں ایک زیر زمین دہشت گرد گروہ کے طور پر اپنی تشکیل نو کر چکی ہے، اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں نومبر 2015 میں پیرس میں کیے گئے پیچیدہ دہشت گردانہ حملوں کی طرح کی کوئی کارروائی بھی خارج از امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی حلقوں میں مذہبی شدت پسندی کا کھٹکا ابھی تک بھرپور انداز میں پایا جا رہا ہے۔ سال 2015 میں دہشت گرد حملوں کے بعد فرانس نے شدت پسندی کے انسداد کی کوششوں میں اضافہ کر دیا۔

خیال رہے کہ مذکورہ کوششوں کے سلسلے میں پارلیمنٹ کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شدت پسندوں نے سرکاری اداروں کے اندر رسائی حاصل کر لی ہے۔ ان اداروں میں پولیس، فوج، پبلک ٹرانسپورٹ، اسپتال اور تعلیمی سیکٹر شامل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں