The news is by your side.

Advertisement

ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کھیلنے کے دوران ہزاروں شہری احتجاج کرتے ہوئے نکل آئے

پیرا گلائیڈر نے نو فلائی زون میں اڑان بھر کر امریکی صدر کے خلاف احتجاجی بینر لہرا دیا

اسکاٹ لینڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کھیلنے کے دوران ہزاروں شہری احتجاج کرتے ہوئے ایڈن برگ کے ریزوٹ کمپلیکس کے باہر جمع ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر اپنے دورۂ برطانیہ کے دوران ٹرن بیری ریزوٹ پہنچ گئے جہاں انھوں نے گالف کھیلی، اس دوران ہزاروں مظاہرین ایڈن برگ کی گلیوں میں جمع ہوگئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج تیسرے دن میں داخل ہوگیا ہے، امریکی صدر نے اپنی اہلیہ میلانیہ اور خاندان کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کا نجی دورہ کیا، وہ پیر کے روز فِن لینڈ کے مرکزی شہر ہیلسنکی میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

ہزاروں افراد نے ریزوٹ کمپلیکس کے باہر جمع ہو کر امریکی صدر کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سیکورٹی کے انتہائی کڑے پہرے میں اسکاٹ لینڈ کا دورہ کر رہے ہیں۔

قبل ازیں پولیس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ کس طرح ایک پیرا گلائیڈر نے ٹرن بیری پر اڑان بھرتے ہوئے ٹرمپ کے خلاف بینر ہوا میں لہرایا۔

ٹرمپ کے گالف کورس میں کھیلنے کے دوران پولیس کے اسنائپرز نے پوزیشنیں سنبھال لی تھیں، جب کہ بڑی تعداد میں دیگر افسران نے بھی آس پاس علاقے اور گراؤنڈ پر کڑی نظر رکھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب جیسے ہی ٹرمپ ریزوٹ میں داخل ہوئے، مظاہرہ کرنے والے ایک پیرا گلائیڈر نے ”نو فلائی زون“ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اڑان بھری اور ایڈن برگ کے اس ہوٹل تک پہنچا جو ٹرمپ کی ملکیت ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ برطانیہ، عوام کا شدید احتجاج


جمعے کو امریکی صدر کے خلاف لندن میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں آرگنائزرز کا دعویٰ تھا کہ مظاہرین کی تعداد ڈھائی لاکھ تھی، تاہم برطانوی حکومت کے انٹرنیشنل ٹریڈ سیکریٹری نے کہا کہ لندن کے شہریوں نے اچھی مہمان نوازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ امریکا اور برطانیہ کے مابین بریگزٹ ڈیل پر اختلافات پائے جاتے ہیں، گزشتہ روز ”دی سن“ سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ تھیریسا مے کا بریگزٹ پلان معاہدے کو ختم کر دے گا، تاہم چند ہی گھنٹے بعد انھوں نے برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ بالکل ممکن ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں