The news is by your side.

Advertisement

چند روز میں ہزاروں کویتی اقامے منسوخ

کویت نے مختلف وجوہات کی بنا پر مزید 6 ہزار سے زائد تارکین وطن کے اقامے ختم کر دیے۔

کویتی میڈیا کے مطابق کورونا بحران کے دوران الیکٹرانک خدمات (آن لائن سروس) کی دستیابی اور ملک سے باہر مزدوروں کے لیے آن لائن ورک پرمٹ اور رہائشی اجازت ناموں کی تجدید کی اجازت کے باوجود تجدید میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس کے علاوہ کئی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھی کئی کارکنان اپنے رہائشی اجازت ناموں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

پبلک اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 12 جنوری سے 31 جنوری کے دوران 6 ہزار 310 اقامے منسوخ کیے گئے۔ ملک سے تارکین وطن کی روانگی کی وجہ سے 2 ہزار 790 ورک پرمٹ اور 413 اقامے اموات کے سبب منسوخ ہوئے۔

اسی طرح 151 پرمٹ فیملی ویزا پر منتقل کیے گئے جب کہ قریباً 3 ہزار رہائشی اقامے مدت ختم ہونے پر بیرون ملک پھنسے اقامہ ہولڈرز تجدید نہ کروانے کی وجہ سے منسوخ ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی وزارت افرادی قوت نے ایسے 33 ہزار 400 تارکین وطن کے ورک پرمٹ منسوخ کر دیے تھے جن کے رہائشی اقامے بیرون ملک پھنس جانے کی وجہ سے ختم ہو چکے تھے۔

کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت (پی اے ایم) نے غیر ملکی کارکنان کے حقوق کے لیے خصوصی پاور آف اٹارنی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وہ اپنے مالی واجبات وصول کرسکیں گے۔

کویتی میڈیا کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی پاور آف اٹارنی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کویت سے باہر پھنسے افراد جن کے ورک پرمٹ (اقامہ) منسوخ کردیے گئے ہیں، وہ اپنے مالی واجبات ایک خصوصی پاور آف اٹارنی کے ذریعے حاصل کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں

Comments

یہ بھی پڑھیں