The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں تارکین وطن کویت چھوڑنے پر مجبور

کویتائزیشن پالیسی کے تحت غیرملکیوں کو ملازمت سے فارغ کر کے ان کی جگہ کویتی شہریوں کو نوکریاں دینے کے عمل جاری ہے۔

نوکریوں سے برخاستگی اور کٹوتیوں کے باعث صرف 3 ماہ میں 80 ہزار سے زائد تارکین وطن مستقل طور پر کویت چھوڑ گئے ہیں۔

سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں لیبر مارکیٹ کے حوالے سے حالیہ رپورٹ منظرعام پر آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ستمبر سے دسمبر 2020 کے دوران تقریباً 83 ہزار 574 غیر ملکی مستقل طور پر ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 3 ماہ کے اندر مختلف سرکاری ایجنسیوں میں 2 ہزار 144 رہائیشیوں کے معاہدہے ختم کر دیے گئے ہیں جب کہ صحت اور تعلیم کی وزارتوں میں اب بھی تارکین وطن کی بڑی تعداد کام کررہی ہے۔

ان وزارتوں کے بعد کویت ایئرویز، ٹرانسپورٹ اور بیکری کے شعبوں میں بھی تارکین وطن کی بڑی تعداد کام کررہی ہے۔

کویتائزیشن کی پالیسی پر گامزن کویت نے غیرملکی کارکنوں کو فارغ کرنے کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے مزید کٹوتیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت عامہ نے کویت میں غیرملکی ملازمین کو کارکردگی کا بونس نہیں دیا اور ساتھ ہی وزارت سے مزید تارکین وطن کو خارج کرنے کی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔

واضح رہے کہ وزارت افرادی قوت نے ایسے 33 ہزار 400 تارکین وطن کے ورک پرمٹ منسوخ کر دیے ہیں جن کے رہائشی اقامے بیرون ملک پھنس جانے کی وجہ سے ختم ہو چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں