ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

جامعہ کراچی میں ہزاروں طلبا کا تعلیمی سال متاثر ہونے کا خدشہ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : جامعہ کراچی میں اساتذہ کے احتجاج اور تدریس کے بائیکاٹ کو  35 دن سے زائد ہونے سے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی سال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کا احتجاج اور تدریسی بائیکاٹ 37ویں روز بھی برقرار ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

انجمنِ اساتذہ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی مکمل طور پر نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے، جس کے بعد اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

انجمنِ اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر سید غفران عالم کی قیادت میں وائس چانسلر آفس کے باہر اساتذہ اور جامعہ کراچی ایمپلائز ایسوسی ایشن کا احتجاجی دھرنا بدستور جاری ہے۔

حال ہی میں ہونے والے اساتذہ کی جنرل باڈی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک مطالبات پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

اساتذہ کا مؤقف ہے کہ ہاؤس سیلنگ کے بقایاجات ، ایوننگ پروگرام کے ڈھائی سال سے رکے ہوئے واجبات، لیو انکیشمنٹ، امتحانی ادائیگیاں اور ریٹائرڈ ملازمین کے فنڈز طویل عرصے سے روکے گئے ہیں، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے ہاؤس سیلنگ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاج شروع ہونے سے قبل ہی اساتذہ کو یونیورسٹی کی شدید مالی مشکلات سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔

انتظامیہ نے حکومت کو فوری مالی گرانٹ اور بیل آؤٹ پیکیج کے لیے خطوط بھی ارسال کر رکھے ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت جامعہ میں سیمسٹر بریک ہے، لیکن اساتذہ نے شام کی کلاسوں کے امتحانات کا بائیکاٹ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

انتظامیہ کی سستی اور اساتذہ کے سخت مؤقف کے باعث تعلیمی شیڈول شدید متاثر ہو رہا ہے اور امتحانات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے طلبہ کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

اہم ترین

انور خان
انور خان
انور خان اے آر وائی نیوز کراچی کے لیے صحت، تعلیم اور شہری مسائل پر مبنی خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں