The news is by your side.

Advertisement

دادی کے گھر جانا چاہتی ہوں

لندن/دمشق : شمالی شام میں واقع پناہ کیمپ میں رہائش پذیر برطانوی نژاد داعشی جنگجوؤں کے بچوں نے واپس برطانیہ لوٹنے کی خواہش ظاہر کردی۔

تفصیلات کے مطابق شام کے شمالی حصّے میں واقع پناہ گزین میں موجود تین تیم بچوں نے واپس اپنے گھر برطانیہ لوٹنے کی خواہش ظاہر کی ہے جن کے جنگجوؤں والدین داعش کے مضبوط گڑھ باغوز پر فضائی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی) کے نامہ نگاروں نے تینوں بچوں کو شمالی شام میں کردوں کے زیر انتظام چلنے والے ایک پناہ گزین کیمپ میں تلاش کیا جو اس وقت ترکی کی بمباری کے دوران بھی کیمپ میں موجود ہیں۔

نوجوان 10 سالہ امیرہ، اس کی آٹھ سالہ بہن حبا اور اسکا چھوٹا بھائی حمزا جن کے بارے میں برطانوی میڈیا کا خیال ہے کہ انہیں ان کے والدین اسلامی ریاست(داعش کے زیر کنٹرول علاقہ) میں لے آئے تھے۔

 

ان کا خیال ہے کہ یہ خاندان پانچ سال قبل برطانوی ارالحکومت لندن سے شام منتقل ہوا تھا لیکن اب یہ تین یتیم عین عیسیٰ کیمپ میں رہائش پذیر ہیں ، جس میں 13،000 افراد رکھا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیرہ نے بتایا کہ اسے برطانیہ میں اپنی دادی کے گھر، پارکوں، تفریح گاہوں اور ریستورانوں میں جانا یاد آتا ہے۔

شامی علاقے باغوز میں ہونے والی بمباری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہم ایک چھوتے سے مکان میں مقیم تھے جب باغوز پر بمباری شروع ہوئی تو ہم اپنا سامان باندھ کر گھر سے نکل رہے تھے ایک جہاز نے ہمارے گھر پر بم پھینکا جس کے نتیجے میں میری ماں اور دو چھوٹے بھائی اور اہل بہن ہلاک ہوگئے اور ہمیں وہاں سے نکلنا پڑا۔

دی گارڈین کی خبر کے مطابق ، امیرا گھر واپس آنے کے لئے بے چین ہیں اور درختوں سے پھل لینے کے خواب دیکھتی ہیں۔

یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ترک فوج کیمپ پر قابض کرد فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں آگے بڑھتے ہی بچوں کو کراس فائر میں پھنسا سکتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں