The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان میں سال کی تیسری بڑی دہشت گردی

کوئٹہ: بلوچستان میں رواں سال تیسرا بڑا سانحہ شاہ نورانی کا ہے، سو دنوں کے دوران تیسرے بڑے واقعے میں درجنوں افراد شہید ہوگئے۔

جائزہ لیں تو 8 اگست کوسول اسپتال کوئٹہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 80 افراد شہید ہوئے۔ دھماکے سے قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے نوجان روڈ پر فائرنگ سے وکیل رہنما بلال انور کاسی شہید ہوئے، درجنوں وکیل ایمرجنسی پہنچے تو وہاں خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا جس سے 80 شہادتیں ہوئیں،اسی افراد میں سے 50 وکیل تھے،ڈیڑھ سو افرادزخمی بھی ہوئے۔

 تفصیلات جانیے : سانحہ سول اسپتال کوئٹہ، شہداء کی تعداد 74 ہوگئی

ابھی اس واقعے کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی ایک اور خوفناک حملہ کیا گیا، پولیس ٹریننگ سیںٹر پررات تین دہشت گردوں نے اس وقت یلغار کی جب وہاں 70 کے قریب زیرتربیت پولیس اہلکار موجود تھے،اندھا دھند فائرنگ اور خودکش دھماکے میں 61 ریکروٹ موقع پر شہید ہوئے، دو نےاسپتال پہنچ کردم توڑ دیا ،150 اہلکار زخمی ہوئے۔

 یہ پڑھیں  : کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ،62 اہلکار شہید، 118 زخمی

آج ہفتے کو ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے دور افتادہ علاقے میں شاہ نورانیؒ کی درگاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، دھماکا درگاہ میں دھمال کے لیے مخصوص کی گئی جگہ پرکیا گیا جہاں درجنوں زائرین موجود تھے، اب تک کی اطلاعات کے مطابق دس افراد شہید ہوچکے جب کہ تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: درگاہ شاہ نورانی میں دھماکا، 43 افراد جاں بحق، 100 سے زائد زخمی

واضح رہے صوبہ بلوچستان میں پڑوسی ملک بھارت کی در اندازی اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آچکے ہیں حال ہی میں بھارتی خفیہ ایجینسی کے حاضر افسرکُلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور انکشافات کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پربھی بھارتی جارحیت اور دہشت گردوں کی معاونت پر آواز اُٹھائی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں