پروفیسر حسن ظفرکی رہائی کے لیے آنے والے 3 اساتذہ گرفتار، 2 خواتین بھی شامل Arrest
The news is by your side.

Advertisement

پروفیسر حسن کی رہائی: پریس کلب آنے والے 3 اساتذہ گرفتار، 2 خواتین شامل

کراچی: ایم کیو ایم لندن سے مبینہ الزامات کے شُبے میں کراچی یونیورسٹی کی ٹیچر ایسوسی ایشن کی دو خواتین اور ایک مرد ٹیچر کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، ٹیچر انجمن کی رکن کا کہنا ہے کہ ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، پروفیسر حسن ظفر کی رہائی کے لیے پریس کانفرنس کرنے آئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق بانی ایم کیو ایم کی حمایت میں کھڑے ہونے والے پروفیسر حسن ظفر عارف کی رہائی کے لیے پریس کانفرنس کے لیے آنے والے کراچی یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کے تین اراکین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا۔

ڈاکٹر ریاض اور مہرافروز مراد کو پریس کلب جبکہ خاتون ٹیچر نغمہ شیخ کو پاسپورٹ آفس کے قریب سے حراست میں لیا گیا، ذرائع کے مطابق تینوں رہنماؤں کو لندن سے رابطہ رکھنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیچر انجمن کے اراکین پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہیں پروفیسر حسن ظفر عارف کی رہائی کے لیے پریس کانفرنس کی ہدایت لندن سے دی گئی تھی جس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔

پڑھیں: ’’ متحدہ لندن کے رہنما حسن ظفر اور کنور خالد پریس کلب سے زیر حراست

بعد ازاں جامعہ کراچی اساتذہ انجمن کی رکن ڈاکٹر نوین عہدیداران کے ہمراہ پریس کلب پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ ڈاکٹر ریاض جامعہ کراچی کی اساتذہ تنظیم کے صدر رہے ہیں، ہمارے سینئر اساتذہ کا لاپتہ ہونا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر حسن ظفر کی طبیعت ناساز ہے اُن کو علاج کی سہولیات فراہمی پریس کانفرنس کرنے آئے تھے، ہمارا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، لاپتہ ہونے والے دونوں ڈاکٹرز دوپہر 2 بجے تک رابطے میں تھے۔

مزید پڑھیں: پروفیسر حسن ظفر عارف رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار

دوسری جانب ایم کیو ایم لندن کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے تینوں اراکین کا لندن سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ کبھی کسی عہدے پر تعینات رہے، قوم کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے والوں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں