The news is by your side.

Advertisement

گھر کو سمیٹنے اور صفائی کے لیے چند ٹپس

صاف ستھرا، سمٹا ہوا اور منظم گھر دماغی و نفسیاتی طور پر بہترین اثرات مرتب کرتا ہے، گو کہ یہ روز کی بنیادوں پر کیا جانے والا کام ہے لیکن اس کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔

گھر کو اگر صاف ستھرا رکھا جائے تو اس کی صفائی ستھرائی کا عمل مختصر اور آسان ہوجاتا ہے، بجائے اس کے، کہ کافی دن بعد صفائی کی جائے جو کئی گنا زیادہ محنت اور وقت طلب کام ہے۔

گھر کی صفائی کے دوران مندرجہ ذیل ٹپس سے آپ کم وقت اور محنت میں گھر کو صاف کرسکتے ہیں۔

مقصد طے کریں

گھر میں کسی بھی تبدیلی سے قبل یہ طے کرلیں کہ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں، کن کمروں پر کام کرنا چاہتے ہیں، مخصوص کمرے یا پورے گھر میں ایسا چاہتے ہیں تو یہ تعین کریں کہ وہاں کیا کام کرنا ہے اور کیا نہیں۔

ایک بار جب کمروں کے نقائض سے واقف ہوجائیں گے تو پھر ان کو ٹھیک کرنے پر کام کریں۔

بیکار اشیا سے جان چھڑائیں

گھروں کے سامان کے انتظام کی ماہر ماری کونڈو کے مطابق اشیا کو اسٹور کرنے والے درحقیقت ذخیرہ اندوز ہوتے ہیں، اشیا کو اٹھا کر وہاں پھینک دینے سے بس دھوکا ہوتا ہے کہ آپ نے بکھرے ہوئے گھر کے مسئلے کو حل کرلیا ہے۔

اپنے اسٹوریج کے مقام جیسے کسی الماری، تہہ خانے یا اسٹور روم میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ وہاں کیا کچھ رکھنا ہے جو بعد میں اسے بے ہنگم مقام میں نہ بدل دے۔

صرف ان اشیا کو اپنے پاس رکھیں جو کارآمد ہوں یا آپ کی تفریح کا باعث ہوں۔

چھوٹا آغاز

اگر آپ کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ سمٹی ہوئی اور منظم جگہ آپ کے لیے کیا کرسکتی ہے تو کسی ایسی چھوٹی جگہ سے آغاز کریں جس کو آپ روز دیکھتے ہوں۔

اب یہ باتھ روم کیبنٹ ہو یا کچن کا کوئی سامان رکھنے والا خانہ، اسی طرح بتدریج دائرہ بڑھائے جائیں۔

وقت کا تعین

ضروری نہیں کہ ایک رات میں پورے کچن کو صاف ستھرا اور سمٹا ہوا بنادیں، اگر آپ کے پاس وقت کی کمی ہو تو اس کے مطابق وقت کو اس کام کے لیے مختص کردیں۔

جیسے ہر رات کچن کا ایک خانہ ٹھیک کریں اور سب سے پہلے آسان ترین جگہ سے شروع کریں تاکہ کام کرنے کا حوصلہ بڑھ سکے۔

بڑی جگہ کی صفائی اور ان کو ترتیب دینے کا کام چھٹی کے دن پر چھوڑ دیں، اس سے آپ کو اپنے کام پر اطمینان کا احساس بھی ہوگا کیونکہ توقع ہے کہ کام کے لیے زیادہ وقت بھی ہوگا۔

ایک آسان اصول

کسی ترتیب دیے گئے کمرے کو مستقبل میں پھر بکھرنے سے بچانے کے لیے خود سے وعدہ کریں کہ جب بھی آپ اس جگہ کے لیے کوئی نئی چیز لائیں گے تو وہاں موجود ایک چیز کو نکال دیں گے۔

اس طریقہ کار سے زیادہ سامان اکٹھا ہونے کا امکان ہی نہیں ہوگا۔

چیزوں کی اہمیت کا تعین

کسی بھی چیز کے بارے میں اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا آپ نے گزشتہ 90 دن میں اسے استعمال کیا، اگر نہیں کیا تو کیا اگلے 90 دن میں استعمال کریں گے؟

اگر آپ کو لگے کہ ایسا نہیں ہوگا تو بہتر ہے کہ اسے کسی اور دے دیں، دنوں کی تعداد کا تعین آپ خود کرسکتے ہیں یعنی 90 کی جگہ 45 یا 120 یا 365 دن بھی کرسکتے ہیں۔

ملبوسات کی چھانٹی کا بہترین طریقہ

کون سے کپڑے آپ نے پہننے ہیں اور کون سے نہیں، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے؟ تو فلپ ہینگر ٹرک کو آزما کر دیکھیں۔

آغاز میں اپنے کپڑے ہینگر میں لگا کر الماری میں ٹانگتے ہوئے ان سب ہینگر کے اوپری حصے کا رخ ایک جانب رکھیں۔

ہر بار کپڑے پہن کر دوبارہ لٹکاتے ہوئے اوپری حصے کا رخ دوسری جانب کردیں اور مخصوص وقت جیسے 3 ماہ بعد دیکھیں کتنے ایسے کپڑے ہیں جو استعمال میں نہیں آئے، ان کو کسی ضرورت مند کو عطیہ کردیں۔

کاغذات

کاغذ بہت آسانی سے جمع ہوجاتے ہیں حالانکہ موجودہ دور میں بہت کچھ آن لائن ہی ہوجاتا ہے۔

جب کاغذات کی صفائی کرنی ہو تو ان کی فائلنگ کرتے ہوئے اہم دستاویزات کو سنبھال کر فائل میں لگائیں، بلکہ اگر ممکن ہو تو اسکین کرکے ڈیجیٹل اسٹور کرنے کے بارے میں سوچیں، باقی بیکار کاغذات کو پھاڑ کر کچرے میں ڈال دیں۔

سپاٹ سطح کو صاف رکھیں

کچن کاؤنٹر ہو، میز یا دراز، ان کی سپاٹ جگہ کو کم از کم استعمال کریں، جتنی کم اشیا ہوں گی وہ اتما ہی بہتر نظر آئیں گی۔

جلد بازی سے گریز

اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ گھر یا کمرے کو سمیٹتے ہوئے بہت جلد بازی سے کام لیتے ہیں، مگر ایسا کرتے ہوئے زیادہ تر اشیا کو کسی اور جگہ اٹھا کر رکھ دیتے ہیں۔

اگر سمیٹنے کے لیے زیادہ وقت نہیں تو دستیاب وقت میں جتنا کر سکتے ہیں کریں، مزید کام بعد کے لیے چھوڑ دیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں