پشاور : خیبرپختونخوا کی حسین وادی تیراہ دہشت گردی اور منشیات فروشی کیلیے محفوظ مقام بن گئی، یہاں دہشت گردوں نے اپنے ڈیرے جمالیے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے کی میزبان انیقہ نثار نے خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے مرکز وادی تیراہ کا دورہ کیا اور ٓاپنی رپورٹ میں حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی۔
اس موقع پر وہاں تعینات آئی جی ایف سی کے پی نارتھ میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے علاقہ کی موجودہ صورتحال کشیدگی مشکلات اور فتنۃ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی موجودگی کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، انہوں دہشت گردی اور منشیات فروشوں کے گٹھ جوڑ سے متعلق بھی معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کو اس منشیات کی ترسیل سے نہ صرف پیسہ ملتا ہے بلکہ وہ اس پورے ایکوسسٹم سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل یہ 1224 کلومیٹر تک پھیلی ایک طویل سرحد ہے، بحیثیت آئی جی ایف سی میری ڈیوٹی میں 717 کلومیٹر کی سرحد ہے۔
اس سرحد کی اہم بات یہ ہے کہ یہاں برف سے ڈھکے پہاڑ سرسبز وادیاں اور تنگ راستوں والی گھاٹیاں ہیں، ایسے میں اگر آپ 12 ہزار فٹ کی بلندی پر بھی بیٹھے ہوں تو نیچے دیکھنے پر پانی کا چشمہ بھی ایک لکیر کی مانند لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے کی مانیٹرنگ کیلیے جدید کیمرے اور آلات نصب کیے گئے ہیں اس کے باوجود ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ جو شخص اس طرف سے آتا ہے تو اس کو کھانے پینے، آرام اور سکون کیلیے یہاں قیام لازمی کرنا پڑتا ہے۔
میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے کہا کہ ہم سے یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ اس سرحد کو سیل کیوں نہیں کیا جاتا؟ آپٟ خود اس بات کا بہتر اندازہ لگا سکتی ہیں کہ کیا یہ سرحد واقعی سیل ہوسکتی ہے؟ اس باڑ نے ایک نیا منظر نامہ بنایا ہے اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک بین الاقوامی سرحد ہے
اس سرحد سے داخل ہونے کیلیے ایک ہی راستہ رہتا ہے اور وہ ہے دوا توائی کا علاقہ، یہ ساری لائف لائن ہے اندر اور باہر جانے والی ہر چیز اسی پر منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میں خود اس کی چیکنگ کرنا شروع تو میرے پاس بھی مکمل اختیار نہیں گزشتہ سال باغ میدان کے علاقے میں64 جوان شہید اور198 زخمی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ وادی تیراہ میں منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے اس بڑھتےہوئے گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کو اگر کنٹرول نہ کیا گیا تو پشاور میں دہشت گردی کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


