ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، سکیورٹی ذرائع

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (30 جنوری 2026): سکیورٹی ذرائع نے تیراہ میں کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے جوھٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈا قرار دے دیا۔

اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کراچی میں میڈیا کے نمائندگان سے اہم گفتگو میں بتایا کہ تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) ہو رہے ہیں، 3 سال سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آئی بی اوز دہشتگردی کے خلاف سب سے مؤثر طریقہ ہے، دہشتگردوں کے خلاف خفیہ معلومات پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی وادی تیراہ خالی کرانے کی خبروں کی سختی سے تردید

انہوں نے مزید بتایا کہ تیراہ میں آپریشن کا جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، وادی میں کہیں بھی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، فوج کی تعداد میں اضافہ نہ ہونا بے بنیاد پروپیگنڈے کی نفی کرتا ہے، دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے میں دراڑ نہیں ڈال سکتا۔

’دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ فوج اور عوام کے رشتے میں کوئی بیانیہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔ قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے ہی تمام فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مشاورت میں ہمیشہ مقامی حالات اور روایات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔‘

 

سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دشمن ہیں، احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشتگردی کرنےوالوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔

’بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اصل میں عوام کی سہولتوں اور ترقی کے دشمن ہیں۔ صوبے میں 25 ہزار کلو میٹر سے زائد سڑکیں اور 4 امراض قلب کے اسپتال بنے۔‘

سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں پاک فوج نے دشمن کو مثالی دھول چٹائی۔ بھارت اگر دوبارہ کوشش کرے گا تو پہلے سے زیادہ منہ توڑ جواب دیں گے، بھارت پاکستان میں امن خراب کرنا چاہتا ہے، فیلڈ مارشل کی ہدایت پر معرکہ حق کے وقت مغربی سرحد پر بھی فوج موجود رہی۔

’بھارت افغانستان اور بلوچستان میں دہشتگردوں کو فنڈنگ کر رہا ہے۔ ہم ڈرون ٹیکنالوجی میں اہم کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ کبھی نہیں چاہتے کہ ہمارا میڈیا کمزور ہو، طاقتور میڈیا پاکستان کی ضرورت ہے، معرکہ حق میں میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا۔‘

+ posts

محمد صلاح الدین اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ہیں اور ایوی ایشن سے متعلقہ امور کی رپورٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں

اہم ترین

محمد صلاح الدین
محمد صلاح الدین
محمد صلاح الدین اے آروائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ہیں اور ایوی ایشن سے متعلقہ امور کی رپورٹنگ میں مہارت رکھتے ہیں

مزید خبریں