The news is by your side.

Advertisement

حکومت 7 روز میں شریعت نافذ کرے، لبیک یارسول اللہ کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

لاہور: تحریک لبیک یارسول اللہ کے رہنما ڈاکٹر اشرف جلالی نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے باہر سے 27 جنوری کو جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا جائے گا جبکہ پیر حمید الدین سیالوی نے حکومت کو 7 روز میں شریعت نافذ کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں تحریک تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشرف جلالی کا کہنا تھا کہ ‘ختم نبوت ﷺ پر میلی آنکھ ڈالنے والوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ’27 جنوری سے جیل بھرو تھریک کا آغاز پنجاب اسمبلی کے باہر سے شروع کیا جائے گا جس میں قائدین اور ختم نبوت کے پروانے اپنی رضاکارانہ گرفتاریاں پیش کریں گے‘۔

ڈاکٹر اشرف جلالی کا کہنا تھا کہ ’رانا ثنا اللہ کو گریبان سے پکڑ کر گھر ضرور بھیجیں گے‘۔

پیر حمید الدین سیالوی کا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’شریعت کے نفاذ کے لیے حکومت کو 7 دن کی مہلت دے رہا ہوں، اگر ہمارا مطالبہ نہ مانا گیا تو پنجاب کے گلی کوچے بند کردیں گے‘۔

مزید پڑھیں: تاجدار ختم نبوتﷺکانفرنس ، پیرحمیدالدین سیالوی کا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان

اُن کا کہنا تھا کہ ’رانا ثنا اللہ اپنے لوگوں کو بندوقیں دیں ہمارے سینے حاضر ہیں، ہم اور کارکنان ناموس رسالت ﷺ کے ہزاروں پروانے جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں‘۔

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تحریک ختم نبوت ﷺ کے مقاصد سیاسی نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ لے کر رہیں گے، ملک بھر میں احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ اور لاک ڈاؤن بھی کرنا پڑا تو اس اقدام کو بھی کر گزریں گے‘۔

یاد رہے کہ  تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان نے گزشتہ ماہ  ڈاکٹر آصف جلالی کی سربراہی میں 7 روز تک پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: رانا ثنا 31 دسمبر تک مستعفی نہ ہوئے تو شہباز شریف استعفیٰ دیں، پیر سیالوی کا الٹی میٹم

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ رانا ثنا اللہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پیر حمید الدین سیالوی رانا ثنا اللہ کے استعفیٰ سے متعلق ڈیڈ لائن دی تھی جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ان کو ٹیلی فون کرکے مہلت طلب کی تھی تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں