The news is by your side.

Advertisement

نانگا پربت سر کرنے کی کوشش میں‌غیر ملکی کوہ پیما ہلاک

اسلام آباد : پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود نانگا پربت پر لاپتہ ہونے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں۔

تفصیلات کے مطابق شمالی پاکستان میں موجود دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت دو ہفتے قبل برطانوی اور اطالوی کوہ پیماہ لاپتہ ہوگئے تھے جن کی ہلاکت کی تصدیق پاکستان میں تعینات اطالوی سفیر نے کردی۔

اطالوی سفیر اسٹیفانو پونتیکوروو نے ٹوئٹر پر دونوں کوہ پیماؤں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کلھا کہ ’فضا سے لی گئی تصاویر سے دونوں کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے‘۔

اطالوی سفیر کا کہنا تھا کہ’میں افسوس کے ساتھ اعلان کررہا ہوں کہ دونوں کوہ پیما ’ڈینئیل اور ٹام‘ نانگا پربت کی 5 ہزار 900 میٹر کی بلندی پر مردہ حالت میں ملے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کوہ پیما ٹام بیلارڈ اور ڈینیئل ناردی 24 فروری کو 8 ہزار 125 میٹر بلند نانگا پربت سر کرنے کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔

دونوں کوہ پیماؤں نے نانگا پربت سر کرنے کےلیے ایسے روٹ کا انتخاب کیا تھا جس کے ذریعے چوٹی سر کرنا ناممکن ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تلاش میں تاخیر کا باعث پاک بھارت کشیدگی بنی کیوں دونوں ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی حدود بند کردی گئی تھی جس کے بعد کوہ پیماؤں کی تلاش کےلیے اجازت کی ضرورت تھی۔

ٹام بیلارڈ، برطانوی کوہ پیما ایلیسَن ہارگریوز کے بیٹے ہیں، جو آکسیجن کے ذخیرے کے بغیر ‘ماونٹ ایورسٹ’ سَر کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون ہیں۔

ایلیسن ہارگریوز کی موت 1995 میں، پاکستان میں شمال میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ سے واپسی کے دوران ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ جولائی براعظم امریکا کے ملک کینیڈا کا 53 سالہ کوہ پیما ’سرگ ڈیشرلوٹ‘ دنیا کی 8 ہزار 611 میٹر(28 ہزار 251 فٹ) اونچی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں