The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس سے صحتیابی: ٹام ہینکس اور اہلیہ اپنا خون عطیہ کریں گے

معروف امریکی اداکار ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن کرونا وائرس سے صحتیاب ہوجانے کے بعد اب اس مرض کی تحقیق کے لیے اپنا خون عطیہ کرنے جارہے ہیں۔

ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ کرونا وائرس کا شکار ہونے والی اولین ہائی پروفائل شخصیات تھے جس نے دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔

جوڑا اس وقت آسٹریلیا میں تھا جب ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی، ان دونوں کا وہیں علاج ہوا اور مکمل صحتیابی کے بعد انہیں لاس اینجلس میں ان کے گھر لوٹنے کی اجازت دی گئی۔

صحت یابی کے بعد ایک انٹرویو میں ٹام نے بتایا کہ ان دونوں نے واپسی کے بعد ماہرین سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ اپنا پلازمہ (خون) عطیہ کرنا چاہتے ہیں، ماہرین کی رہنمائی کے بعد وہ ایک میڈیکل اسٹڈی کے لیے رجسٹر ہوگئے۔

ان کے مطابق اس مطالعے میں شامل افراد کے خون کا تجزیہ کر کے اس میں اینٹی باڈیز کو جانچنا تھا جس سے اندازہ ہوسکے کہ آیا وہ کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں۔

ٹام نے بتایا کہ اب انہیں اطلاع ملی ہے کہ ان کے خون میں اینٹی باڈیز موجود ہیں جس کے بعد اب وہ اپنا خون عطیہ کریں گے۔ انہوں نے ازراہ مذاق اس متوقع ویکسین کو ہینک ۔ سین کا نام بھی دیا۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بیماری کے دوران ان کی اہلیہ کی طبیعت کہیں زیادہ خراب تھی اور انہیں شدید بخار تھا، تاہم اب وہ اپنی اور اہلیہ کی صحتیابی پر خوش ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اس وقت کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ملک بن گیا ہے جہاں مریضوں کی تعداد 8 لاکھ 19 ہزار 175 ہوچکی ہے جبکہ ہلاکتیں 45 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں