The news is by your side.

Advertisement

آٹزم میں مبتلا نوجوان دنیا کا طاقتور ترین انسان بن گیا

آٹزم کے ناقابل علاج مرض میں مبتلا ٹام اسٹولٹمین نامی برطانوی شہری نے 210 کلوگرام وزن اٹھا کر دنیا کے طاقتور ترین شخص کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

آٹزم کا شکار ہونے والے افراد کسی اہم موضوع یا بحث میں کسی خاص نکتے پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے اور اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں دوسروں کے جذبات سمجھنے میں بھی دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود برطانوی ریاست اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ٹام اسٹولمین نے دنیا کے طاقتور ترین انسان کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق دنیا کے طاقتور ترین انسان بننے کا مقابلہ دنیا بھر سے بلائے گئے کھلاڑیوں کے درمیان تھا لیکن فائنل تک پہنچتے پہنچتے صرف دو کھلاڑی بھی مقابلے میں بچے۔

ایک سابق دنیا کے طاقتور ترین انسان کا اعزاز رکھنے والے بریان شا تھے اور دوسرے خود اسٹولٹمین تھے، مقابلے میں 210 کلو وزنی پتھر کو ایک جگہ سے اٹھا کر مختص مقام پر رکھنا تھا اور یہ بازی ٹام لے گئے۔

اسی مقابلے میں اسٹولمین کے بھائی لیوک بھی شریک تھے جو مقابلے میں ساتویں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں