جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

ٹوماہاکس میزائل، ٹرمپ نے یوکرین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (03 نومبر 2025): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فی الحال یوکرین کو ٹوماہاک میزائل نہیں دیے جائیں گے۔

روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ وہ فی الحال ایسا کوئی معاہدہ کرنے پر غور نہیں کر رہے، جس کے تحت یوکرین کو روس کے خلاف استعمال کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائل حاصل ہو سکیں۔

منصوبہ یہ تھا کہ امریکا ٹوماہاک میزائل نیٹو ممالک کو فروخت کرے گا اور وہ ممالک انھیں یوکرین منتقل کر سکیں گے، تاہم ٹرمپ نے اس منصوبے پر ٹھنڈا ردِعمل ظاہر کیا ہے، انھوں نے کہا کہ وہ جنگ میں شدت نہیں چاہتے۔

ان کا یہ تازہ ترین تبصرہ، جو انھوں نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا، اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہ اب بھی اس معاملے میں ہچکچاہٹ کے شکار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ میزائل فروخت کے کسی معاہدے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا ’’نہیں، فی الحال نہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’البتہ میرا خیال بدل بھی سکتا ہے۔‘‘

میرے دور صدارت میں چین تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا، ٹرمپ کا انٹرویو میں دعویٰ

ٹرمپ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے نے 22 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ٹوماہاک میزائل کے منصوبے پر بات چیت کی تھی۔ رُٹے نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور فیصلہ کرنا امریکا کے اختیار میں ہے۔

ٹوماہاک میزائل کی مار تقریباً 2,500 کلومیٹر (1,550 میل) تک ہے، جو روس کے اندر گہرائی تک، بشمول ماسکو، ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے ان میزائلوں کی فراہمی کی درخواست کی ہے، لیکن کریملن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دیے جانے کے کسی بھی اقدام کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں