site
stats
بزنس

ٹماٹر – چترال میں سماجی تبدیلی کا ذریعہ

Tomato

چترال: بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں آباد ‘ قدرتی مناظر سے مالامال وادی کریم آباد کے گاؤں درونیل کے گاؤں میں مقامی کاشتکار اپنی مدد آپ کے تحت ٹماٹر اگارہے ہیں‘ جو ان کی سماجی حالت بہتر کرنے میں مدد کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وادی کریم آباد کے درونیل گاؤں میں کاشتکار غیر موسمی ٹماٹر کاشت کرتے ہیں جو بیس اگست سے لے کر دسمبر کے خاتمے تک ٹماٹر کی فصل دیتا ہے۔

اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ رواں سال جب پورے ملک میں ٹماٹر کی قلت پیدا ہوئی تو ان کا ٹماٹر چترال سے سفر کرکے کراچی کی منڈیوں تک گیا۔

ٹماٹر کی یہ شاندار فصل یہاں اگانے کا سہرا مقامی آبادی کے سر بندھتا ہے جہاں مردوزن سبنے شانہ بشانہ اپنی مدد آپ کے تحت یہ فصل اگانا شروع کی ہے‘ اس کے لیے وہ آٹھ کلومیٹر دور سے اپنے کھیتوں تک پانی لانے کے لیے ندی ازخود بناتے ہیں۔

علاقے کے معروف سماجی کارکن اسرار الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے کے لوگوں میں شعور پیدا کیا کہ وہ ایسی فصل کاشت کریں ‘ جس سے فوری طور پر ان کو مالی فائدہ ہو تو ان لوگوں نے گندم کی جگہ ٹماٹر کاشت کرنا شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جس کھیت میں گندم کی فصل بونے سے دس ہزار روپے کا آمدنی ہوتا تھا‘ اب اسی کھیت سے پانچ لاکھ روپے کا آمدنی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس پورے وادی میں حکومت نام کا کوئی چیز نہیں ہے‘ یہاں محکمہ آبپاشی کی کوئی نہر نہیں ہے ‘ محکمہ زراعت کو تو لوگ جانتے بھی نہیں ہیں‘ نہ ان کا کوئی کردار ہے۔

اسرار الدین کا کہنا تھا کہ آب پاشی کے نظام کی طرح یہاں کی سڑکیں بھی حکومتی بے توجہی کا شکار ہیں ‘ سڑکوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ گاڑی میں ٹماٹر منڈی تک لے جاتے وقت توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک شخص کو گاڑی کے ایک کنارے پر لٹکنا پڑتا ہے۔

کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہوئے خاتون رحیمہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹماٹروں کو بیچ کر اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس علاقے کے لیے پانی کا بندوبست ہوا ‘ تو اس وادی سے دس گنا زیادہ ٹماٹر کی فصل حاصل کی جاسکتی ہے جو نہ صرف مقامی افراد کی معاشی حالت بہت کرے گی بلکہ حکومت کو بھی معیشت میں مدد کرے گی۔

صابر خان نامی ایک مقامی کاشتکار کا کہنا ہے کہ ہماری زمین نہایت زرخیز ہے مگر پانی کی قلت کی وجہ سے ہم صرف بیس فیصد زمین کاشت کرتے ہیں‘ ہماری اسی فی صد زمین بنجر پڑی ہے۔

مدیحہ عثمان نامی خاتون کراچی کی رہائشی ہیں‘ جن کی شادی درونیل کریم آباد میں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں پانی نہ ہونے کے سبب بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تین مہینے پہلے سے ہم مرد و خواتین مل کر کھدائی کرتے ہیں اور پانی کا نالہ خود بناتے ہیں مگر پھر بھی پانی بہت کم آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی حالت نہایت خراب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے سے ٹماٹر، مٹر، آلو اور محتلف پھل دوسرے علاقوں کو با آسانی فراہم نہیں کیے جاسکتےکہ سڑکوں پر حادثات کی وجہ سے گاڑیاں بہت کم چلتی ہیں۔

اپنی فلاح و بہبود کے لیے پر عزم علاقے کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس وادی میں سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان کو پینے اور آبپاشی کے لیے بھی پانی فراہم کیاجائے ‘تاکہ اس علاقے سے ملک بھر کو ٹماٹر ، آلو اور مٹر فراہم کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ اس علاقے میں اگر آب باشی کا بندوبست کردیا جائے تو یہاں سے کئی گنا زیادہ فصل حاصل کی جاسکتی ہے۔ ابھی ان نامساعد حالات میں بھی اس وادی سے سال میں دس کروڑ روپے کا ٹماٹر، اور ایک ارب روپے کا آلو باہر بھیجا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top