The news is by your side.

Advertisement

آتش فشاں پھٹنے سے تباہی، دنیا سے امداد کی اپیل

بحرالکاہل میں واقع جزیرائی ملک ٹونگا نے سمندر میں پھٹنے والے آتش فشاں سے ہونے والی تباہی کے بعد دنیا سے پانی اور خوراک دینے کی اپیل کی ہے

ٹونگا میں آنے والی تباہی کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہے  جب کہ خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے بعد حکام نے دنبا سے پانی اور خوراک فراہم کرنے کی اپیل کردی ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے بحرالکاہل میں واقع جزیرائی ملک ٹونگا میں زیرسمندر آتش فشاں پھٹنے سے آنے والے سونامی کو 1991 میں فلپائن میں آنے والے سونامی کے بعد بدترین سونامی قرار دیا جارہا ہے۔

آتش فشاں پھٹنے کے باعث سمندر کے ابل پڑنے سے ٹونگا میں مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب تک ابتدائی جانی اور مالی نقصان کا تعین بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر نے ٹونگا میں سونامی کے باعث 80 ہزار لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ٹونگا میں سونامی کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ٹونگا میں امداد کے لیے 2 طیارے روانہ کیے ہیں اور وہ انسانی بنیاد پر امداد کے لیے امریکا، فرانس اور دیگر ممالک سے بھی رابطے میں ہیں۔

آسٹریلوی وزیر کے مطابق ابتدائی خبروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سونامی سے سڑکوں، پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سونامی کے بعد ایک برطانوی شہری کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے متعلق ابھی مصدقہ طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ سونامی نے ٹونگا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں