The news is by your side.

Advertisement

ٹونگا آتش فشاں: زمین عارضی طور پر سرد ہو سکتی ہے

بحرالکاہل میں واقع ملک ٹونگا میں سمندر کے نیچے وسیع سطح پر ایک آتش فشاں پھٹنے سے ماحولیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔

اب ایک جاپانی ماہر نے کہا ہے کہ ٹونگا کے قریب ہونے والی بڑی آتش فشانی سے راکھ اور دیگر اجزا کے دھوئیں کے بادل فضا کی بلندی میں پھیلنے کے باوجود کرۂ ارض کے ماحول پر اس کے اثرات نہایت محدود ہوں گے۔

جاپانی ماہر کا کہنا تھا کہ آتش فشانی مواد کی بڑی مقدار کے فضا میں پھیلنے سے کرۂ ارض عارضی طور پر سرد ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ 15 جنوری کو سمندر کی تہہ کے نیچے آتش فشاں پھٹنے سے آتش فشانی مواد فضائی کرۂ ہوائی کی سطحِ زمین سے 10 کلومیٹر سے زائد بلندی پر واقع تہہ تک پہنچ گیا تھا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ راکھ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر اجزا سطحِ زمین سے 30 کلومیٹر بلندی تک پہنچے تھے۔

دل دہلا دینے والا آتش فشاں، زمین پر بننے والی لہروں کی سیٹلائٹ ویڈیوز سامنے آگئیں

کیُوشُو یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے برائے اپلائیڈ میکانکس سے وابستہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے پروفیسر تاکے مُورا توشی ہِیکو نے 1991 میں فلپائن کے آتش فشاں کوہ پِیناٹُوبو کا حوالہ دیا، جس سے بڑی مقدار میں آتش فشانی مواد فضائی کرہ کی اسی بلندی تک پہنچا تھا۔

پروفیسر نے کہا کہ اس مواد کے باعث سورج کی روشنی کے زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی، جس سے درجۂ حرارت اوسطاً 0.5 درجہ سینٹی گریڈ کم ہوا تھا، اور اس کے اثرات کے باعث جاپان میں چاول کی پیداوار میں کمی ہوئی تھی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین کے ابتدائی تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹونگا کی آتش فشانی سے خارج ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کوہ پِیناٹُوبو کے مقابلے میں تقریباً 50 واں حصہ تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں