جمعرات, اگست 20, 2026
اشتہار

ٹونی مویسن:‌ فکر و فن میں ممتاز نوبیل انعام یافتہ ناول نگار

اشتہار

حیرت انگیز

نوبیل انعام یافتہ ناول نگار ٹونی موریسن افریقی نژاد امریکی مصنفین کی اہم نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ وہ امریکہ کے سیاہ فام ادیبوں اور اہلِ قلم میں اعلیٰ مقام رکھتی تھیں۔ ٹونی موریسن کو ان کے ناول ‘محبوب‘ (Beloved) پر 1988ء میں فکشن کا پلٹزر پرائز بھی دیا گیا تھا۔

وہ پہلی امریکی سیاہ فام مصنّف تھیں جنھوں نے 1993ء میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ ٹونی موریسن ایک بے مثال فکشن رائٹر ہی نہیں تھیں بلکہ امریکہ میں اپنے وقت کی بااثر سیاہ فام خاتون بھی تھیں۔ 2019ء میں ٹونی موریسن آج ہی کے روز انتقال کرگئی تھیں۔ ٹونی موریسن کا ناول محبوب ایک ایسی ماں کی زندگی کے بارے میں ہے، جو اپنی بیٹی کو غلامی کی دلدل میں پھنسنے سے بچانا چاہتی ہے اور اس کے لیے اسے قتل کرنے کا اذیت ناک فیصلہ کرتی ہے۔ یہ ایک نہایت پُراثر اور درد انگیز کہانی ہے جس نے قارئین اور ناقدین کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ ٹونی موریسن کی دیگر مشہور تصانیف میں ‘انتہائی نیلی آنکھیں‘، ‘سلیمان کا گیت‘، ‘انسان کا بچہ‘، ‘جاز‘ اور ‘جنت‘ شامل ہیں۔

اوہائیو میں ٹونی موریسن ن 1931ء میں جنم لیا۔ ہر امریکی سیاہ فام اور غلام خاندان کی طرح ان کا بچپن بھی غربت اور تعصب کا سامنا کرتے ہوئے گزرا۔ اس دور میں سیاہ فام لوگوں کے ساتھ سفید چمڑی والوں کا توہین آمیز رویہ اپنانا ایک عام بات تھی اور سیاہ فاموں کو طرح طرح کی اذیتیں دینا اور ان کے ساتھ ناانصافی انتہا پر تھی۔ یہ سب ٹونی موریسن کی زندگی کی تلخ یادوں کا حصہ بن گیا۔ وہ ایک مزدور کی بیٹی تھیں۔ لیکن کسی طرح تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوکر عملی زندگی میں قدم رکھنے میں کام یاب ہوگئیں۔ انھوں نے درس و تدریس کو بطور پیشہ اپنایا اور ادب کا مطالعہ ان کا وہ شوق رہا جس نے انھیں بھی بعد میں بطور ناول نگار شہرت دی۔ ٹونی موریسن کی فکر اور ان کے ناولوں نے اپنے وقت کے مشاہیر اور اعلیٰ طبقات کو بھی متاثر کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت اور مقبولیت اس قدر بڑھی کہ انھیں حکومتی سطح پر بھی اعزازات کا مستحق سمجھا گیا۔ سابق امریکی صدر بارک اوباما بھی ان کے مداح تھے۔ اوباما کے دورِ صدرات میں ہی ٹونی موریسن کو ‘صدارتی میڈل آف آنر‘ بھی دیا گیا تھا۔ نوبیل انعام کی کمیٹی نے ٹونی موریسن کے طرزِ تحریر، لسانی انفرادیت اور بطور مصنّف ان کی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا تھا، ‘ٹونی موریسن اپنے ناولوں میں تخیلاتی قوتوں کو بروئے کار لاتی ہیں، ان کی نثر شاعرانہ ہے، وہ زندگی کے ایک لازمی حصے کے طور پر امریکی بدیہی حقیقت کی نقاب کشائی کرتی ہیں۔ اپنے بیانیے کی سچائی کے اظہار میں وہ بے رحم ہیں۔’

فکشن کی زبان کو نئے طلسم اور سحر انگیزیوں سے آشنا اور زبان کو آزادی کے رمز اور نعمت سے سرشار کرنے والی ٹونی موریسن ہمیشہ امریکہ کی سیاہ فام نسل کو یہ یقین دلاتی رہیں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور انھیں اپنے حقوق کی خاطر سفر جاری رکھنا چاہیے۔ ناقدین اور اہل قلم کی رائے ہے کہ ٹونی موریسن نے اپنے لفظوں سے غلامی کی زنجیرکو توڑا اور زبان سے بے پایاں محبت کے استعارے تخلیق کیے۔

ٹونی موریسن 1967ء سے1983ء تک افریقی امریکی رائٹر کے طور پر رینڈم ہاؤس کی ایڈیٹر کے عہدہ پر فائز رہیں۔ انھوں نے پرنسٹن اور دیگر یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔ پروفیسر نولیوے روکس کے مطابق ان کے پہلے ناول ”دی بلیوسٹ آئی” کو ایک سنگ میل کی حیثیت سے دیکھا جائے گا جو ایک سیاہ فام لڑکی کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ یہ وہ ناول تھا جس نے بلاشبہ موریسن کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ ٹونی موریسن کی ایک تصنیف ‘سلیمان کا گیت‘ (Song of Solomon) بھی بہت مقبول ہوئی اور آج بھی اس ناول کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ٹونی موریسن نے نیویارک میں اپنی زندگی کا آخری دن تمام کیا تھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں