site
stats
پاکستان

بچی زیادتی کیس: بچی تاحال زیر علاج، ملیر زون کے تمام اعلیٰ افسران طلب

کراچی: کورنگی میں 6 سال کی بچی طوبیٰ پر زیادتی اور تشدد کے کیس کے حوالے سے آئی جی سندھ نے ملیر زون کے تمام اعلیٰ افسران کو طلب کرلیا۔ دوسری جانب میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی تیزی سے روبصحت ہے۔

تفصیلات کے مطابق زیادتی و تشدد کا شکار طوبیٰ کے کیس کے حوالے سے آئی جی سندھ نے ملیر زون کے تمام اعلیٰ افسران کو طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق ایس ایس پی ملیر راؤ انور سمیت ملیر زون کے تمام شعبوں کے افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ میں شریک افسران نے کیس کے حوالے سے آئی جی سندھ کو بریفنگ دی۔

آئی جی سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر زون پولیس نے مزید 3 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گزشتہ روز طوبیٰ کے اہل خانہ کی نشاندہی پر ابراہیم نامی لڑکے کو بھی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے تمام افراد کی تصاویر طوبیٰ کو دکھائی جائیں گی۔

دوسری جانب متاثرہ بچی سول اسپتال ٹراما سینٹر آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ بچی کو نالی کے ذریعے خوراک فراہم کی گئی۔

میڈیکل بورڈ کے مطابق متاثرہ بچی تیزی سے روبصحت ہے۔ مکمل صحتیابی تک بچی ٹراما سینٹر میں ہی زیر علاج رہے گی۔ بچی کے اہل خانہ کے علاوہ کسی فرد کو اس سے ملاقات کی اجازت نہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی وزیر سماجی بہبود شمیم ممتاز اور ریحانہ لغاری کو اہل خانہ سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔

گزشتہ روز کیس سے متعلق ایک خاتون نے بھی عینی شاہد ہونے کا دعویٰ کیا۔ خاتون نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ بچی کو آخری بار رکشہ ڈرائیور کے ساتھ دیکھا تھا جو تاحال غائب ہے۔

خاتون کے بیان کے بعد پولیس نے ساجد نامی رکشہ ڈرائیور کے گھر پر چھاپہ مارا جس پر رکشہ ڈرائیور کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ کل رات سے گھر نہیں آیا، جس کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم کی تلاش کا آغاز کردیا ہے۔

کل سپریم کورٹ نے بھی بچی سے زیادتی کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ سے 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی تھی۔

یاد رہے کہ 6 سالہ طوبیٰ دو دن قبل کورنگی کے ایک نالے سے حلق بریدہ حالت میں ملی تھی۔ اسے زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ ملزمان نے اس کے گلے اور ہاتھوں کی رگیں کاٹ کر اسے قتل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top