site
stats
پاکستان

اسلامی نظریاتی کونسل میں مولانا محمد شیرانی اورمولانا طاہراشرفی آپس میں دست وگریباں

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں مولانا طاہراشرفی اورمولانا محمد خان شیرانی کے تلخ کلامی کے دوران بات بڑھ گئی اور دونوں علماء باہم دست وگریباں ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں مولاناطاہرمحمود اشرفی نے اجلاس کے ایجنڈے کے نکات پراعتراض کیا۔

مولانا طاہر اشرفی کے اعتراض کے جواب میں مولانا محمد خان شیرانی کے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جس پرتلخ کلامی بڑھی اوردونوں علماء آپس میں دست وگریباں ہوگئے۔

ذرائع کہنا ہے کہ مولانا طاہراشرفی نے اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں کسی مخصوص مکتبہ فکرکو کافریا مرتدقراردینے کی مخالفت کی تھی جس پرجھگڑا ہوا۔

مولانا طاہراشرفی نے اس حوالے سے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مکتبہ فکرکو مرتد یا کافرقراردینے کے معاملے کو ایجنڈے سے نکالنے کے مطالبے پرمولانا اخترخان شیرانی بھڑک اٹھے اوران کی نشست پرآکردست وگریباں ہوگئے۔

طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی اپنے ہمراہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے غنڈے لئے پھرتے ہیں جنہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو گھیررکھا ہے اورہم باہرنہیں نکل سکتے ہیں۔

طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے حالات اس قابل نہیں ہیں کہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف اس قسم کی کاروائی کی جائے اس سے ملک میں انتشارپھیلے گا۔

مولانا طاہراشرفی نے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ مولانامحمد خان شیرانی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے عہدے سے فی الفوربرطرف کیاجائے۔

طاہراشرفی نے اس حوالے سے گفتگو کرنے کے لئے آج دوپہرڈھائی بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی ہے جس میں وہ اپنا آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top