The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا میں حملہ آور نے مسلم لڑکی کا حجاب کاٹ ڈالا

اوٹاوا: کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں حملہ آور نے 11 سالہ طالبہ پر حملہ کرتے ہوئے اس کے حجاب کے ٹکرے ٹکرے کردیے۔

تفصیلات کے مطابق 11 سالہ خولا نعمان پر اس وقت حملہ کیا گیا کہ جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ اسکول جارہی تھی، اسی دوران پیچھے سے ملزم نے حملہ کرتے ہوئے اس کا حجاب قینچی سے کاٹ ڈالا، لڑکی کے شور مچانے پر حملہ آور فرار تو ہوا لیکن جاتے جاتے اس نے ایک بار پھرپلٹ کر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

مقامی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے خولہ نعمان کا کہنا تھا کہ ہم اسکول جارہے تھے کہ اچانک کسی نے ہم پر حملہ کیا، میں بہت خوفزدہ تھی کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

اس واقعے کے متعلق پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے اس واقعے سے ہمیں شدید دھچکا پہنچا ہےاورہم مسلم طلبہ و طالبات کے سیکیورٹی  کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔

دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس سے دل بہت رنجیدہ ہے، میں متاثرہ لڑکی اور مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ کینیڈا ایسا ملک بالکل نہیں ہے، کینیڈین وزیر اعظم نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ  موجود دستاویزات، سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے لیے سخت سیکیورٹی  کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

واضع رہے ایک محتاط اندازے کے مطابق کینیڈا میں 2013 کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز حملوں میں اضافہ ہوا ہے، پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2016 میں مسلمانوں پر 149 حملے رکارڈ کیے گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں