The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ میں قید خواتین رضاکاروں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ریاض/لندن : انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں انسانی حقوق کی عملبردار خواتین کو دہشت ناک زیادیتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب سے متعلق اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاست سعودی عرب کے صوبے جدہ کی دھابن جیل میں قید انسانی حقوق کی عملبردار خواتین کو دوران تفتیش جنسی زیادتی، تشدد اور دیگر ہولناک زیادتیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنینشل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گرفتار خواتین رضاکاروں کو دوران تفتیش بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور اس قدر کوڑے مارے گئے ہیں کہ متاثرہ خواتین کھڑی ہونے کے بھی قابل نہیں رہیں۔

جمعے کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تفتیش کاروں نے کم از کم 10 خواتین کو ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تفتیش کاروں نے جبراً ایک دوسرے کو بوسہ دینے پر مجبور کیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے ایک خاتون قیدی سے کہا کہ تمھارے اہل خانہ مرچکے ہیں، جیل حکام کے جھوٹ کے باعث متاثرہ خاتون ایک ماہ تک شدید صدمے میں رہی جبکہ ایک اور خاتون کو کال کوٹری میں بند کرکے بجلی کے جھٹکے دئیے گئے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ گرفتار خواتین میں لجین الھذلول اور عزیزہ الیوسف بھی شامل ہیں جنہیں گزشتہ برس مئی میں خواتین کو ڈرائیورنگ کی اجازت دینے کیلئے اور مردوں کی لازمی سرپرستی کے خلاف مہم چلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ مذکورہ خواتین کو قید میں رکھا ہوا ہے لیکن سعودی حکام کی جانب سے نہ ان پر کوئی مقدمہ چلایا جارہا ہے اور نہ ہی نہیں کسی وکیل تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے سعودیہ پر خواتین قیدیوں تک رسائی کےلیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی نومبر 2018 میں یہ رپورٹ مرتب کی تھی اور دسمبر 2018 میں سعودی حکام سے خواتین قیدیوں تک رسائی کی درخواست کی تھی لیکن انسانی حقوق کی تنظیم کو ابھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کرے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

خیال رہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کی یہ رپورٹ ایسے موقع پر سامنے آئی جب دنیا بھر میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کے استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں لرزہ خیز قتل کی عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ ہورہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں