تہران: ایران میں آئل کی تنصیبات پر خوفناک بمباری کے بعد گہرے کالے بادل چھاگئے اور آسمان سے کالے پانی کی بارش ہوئی، جس پر شہریوں کو خبردار کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران اور گردونواح میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔
ہفتے کی رات ہونے والی شدید بمباری کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات سے اٹھنے والے دھوئیں کے گہرے سیاہ بادلوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،
جس کے باعث تہران کے آسمان پر دن کے وقت بھی رات کا سماں رہا اور شہریوں کو گاڑیوں کی ہیڈلائٹس جلانی پڑیں۔
بین الاقوامی میڈیا (سی این این) نے بتایا کہ تہران میں ہونے والی بارش کا پانی سیاہ اور چکنائی (آئل) والا ہو گیا ہے۔
ایرانی ہلالِ احمر نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فضا میں موجود ہائیڈرو کاربن، سلفر اور نائٹروجن آکسائیڈز کی موجودگی کے باعث یہ "تیزابی بارش” ( انتہائی خطرناک ہے اور اس بارش سے جلد کے جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
حکام نے شہریوں کو سانس کی بیماریوں اور دیگر طبی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے گھروں کے اندر رہنے کی سخت تاکید کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے دانستہ طور پر سویلین اور صنعتی تنصیبات، بالخصوص شاہران آئل ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ "زہریلی فضا اور فضائی آلودگی کے باعث لاکھوں شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں، یہ ایک انسانی اور ماحولیاتی المیہ ہے۔”
ایرانی نیشنل آئل کمپنی کے مطابق تہران اور البرز میں 5 مختلف تنصیبات پر حملوں میں 4 اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں دو آئل ٹینکر ڈرائیورز بھی شامل ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی اس نئی لہر نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے، برینٹ کروڈ 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 92.69 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 2023 کے بعد قیمتوں میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے، جو عالمی سطح پر سپلائی چین اور مہنگائی کو بری طرح متاثر کرے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


