The news is by your side.

Advertisement

عالمی تجارتی جنگ ، آئی ایم ایف نے عالمی معشیت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف چیئرپرسن کا کہنا ہے کہ رواں سال عالمی معشیت کی شرح نمو ایک دہائی کی کم ترین سطح پر آنے کا امکان ہے، عالمی تجارتی جنگ کے واضع اثرات نمودار ہو رہےہیں، عالمی تجارت تقریبا رک گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف چیئرپرسن کرسٹلیناجارجیوا کا کہنا ہے کہ عالمی معشیت میں سست روی کی وجہ تجارتی جنگ ہے جو کہ بڑی معشیتوں کے درمیان جاری ہے۔

کرسٹلینا جارجیوا نے زور دیا کہ عالمی سطح پر کاربن ٹیکسسزمیں اضافہ کیا جانا چاہیئے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹا جاسکے۔

آئی ایم ایف چیئرپرسن نے مزید کہا رواں سال دنیا کے نوے فیصد ممالک میں معاشی شرح نمو سست روی کا شکار رہے گی، ادارہ رواں سال کے لئے پیشگوئیوں میں کمی کرکے گا۔

مزید پڑھیں : ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی عالمی تجارت میں نمایاں کمی کی پیشگوئی

ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارتی جنگ کے واضع اثرات نمودار ہو رہے ہیں، عالمی تجارت تقریبارک گئی ہے، آئندہ سال تجارتی جنگ سے ہونے والے نقصانات کا حجم سات سو ارب ڈالر ہوگا۔

یاد رہے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے عالمی تجارت میں نمایاں کمی کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ بڑی طاقتوں میں تجارتی جنگ کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، عالمی سطح پر معاشی شرح نمو بھی سست روی کا شکار رہے گی۔

ڈبلیو ٹی او کا کہنا تھا کہ تجارتی مال کی فروخت کی شرح نمو صرف 1.2 فیصد رہے گی۔ اس سے قبل ڈبلیو ٹی او نے 2.6 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، تجارت کے حجم میں آئندہ سال بہتری متوقع ہے، سنہ 2020 میں تجارتی حجم 2.7 فیصد تک ہو سکتا ہے، بریگزیٹ اور امریکی شرح سود میں کمی بھی سست روی کی وجہ ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں