site
stats
پاکستان

بینکوں سے لین دین پر ٹیکس، ملک بھر کی تجارتی مراکز بند، تاجر سراپا احتجاج

کراچی : بینکس ٹرانزیکشنز پر لگائے گئے ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف آج ملک بھر کے تاجرشٹر ڈاؤن ہڑتال کر رہے ہیں جبکہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہےہیں، جماعت اسلامی ، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف نے تاجروں کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کال کی حمایت کردی ہے جبکہ حکومت نے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس کی مخالفت احتجاجی تحریک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے، تجارتی مراکز کے ساتھ ساتھ ، پیٹرول پمپس ملکان، غلہ منڈی اور صرافہ بازار بھی آج کی ہڑتال میں شامل ہیں، تاجر رہنما خالد پرویز کے مطابق ملک بھر کی تجارتی تنظیمیں متحد ہوکر اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گی، تاجر گزشتہ کافی روز سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد ، پشاور، کوئٹہ ،گوجرنوالہ، سکھر ،میر پور خاص، سیالکوٹ ، لاہور ، پنڈی اور فیصل آباد میں بھی شٹر ڈاون ہڑتال کی جارہی ہے۔

بینک ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کیخلاف مرکزی انجمن تاجران کی جانب سے میرپورخاص میں شٹر ڈاون ہڑتال تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز سمیت پیٹرول پمپ سی این جی اسٹیشنز مکمل طور پر بند ہے، سڑکوں پر ٹریفک غائب جبکہ تاجروں نے مارکیٹ چوک پر احتجاجی کیمپ لگائے ہیں، تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو واپس لے بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا۔

ملک بھر کی تاجر ایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ ایبٹ آباد کی آل ٹریڈرز ایسوسی ایشن، کینٹ بازار ایسوسی ایشن سمیت تاجر برادری نے حکومت کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس کے نفازکے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہرتال کر رکھی ہے، شٹر ڈاؤن کے باعث کینٹ بازار، صدر بازار، منڈیاں بازار اور دیگر بازاروں میں دوکانیں اور مارکیٹس مکمل بند ہیں، تاجر برادری نے حکومتی اقدام کو یکساں مسترد کر تے ہوئے ہولڈنگ ٹیکس فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، مارکیٹس اور دوکانیں بند ہونے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نواب شاہ میں بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس کے خلاف تاجر شہری اتحاد کی جانب سے شٹرڈاؤن جاری ہے، تاجروں کی ہڑتال کے دوران پر تمام مارکیٹیں کپڑا مارکیٹ، صرافہ مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ، موہنی بازار، کچہری روڈ، مارکیٹ روڈ منوآباد سمیت دیگر مارکیٹیں بند ہیں جبکہ تمام پیٹرول پمپ سے بھی بند ہے، جسکے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

دوسری جانب ایف بھی آر حکام کا کہنا ہے کہ دوہولڈنگ ٹیکس کی واپسی کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top