The news is by your side.

Advertisement

’شاپنگ مالز کھل گئے، رات دیر تک کاروبار کی اجازت دی جائے‘ : تاجروں کی درخواست

کراچی: آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے ایک بار پھر درخواست کی ہے کہ چاند رات تک دیر گئے مارکٹیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین نے جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’عدالتی فیصلے کے مطابق کراچی کے تمام شاپنگ مالز کھل گئے اور اب وہاں اطمینان بخش کاروبار شروع ہوگیا ہے‘۔

انہوں نے استدعا کی کہ چاند رات تک مارکٹیں رات بارہ بجے تک کھولنے کا حکم جاری کیا جائے۔

کراچی میں شاپنگ مالز کھل گئے

قبل ازیں سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع آج تمام شاپنگ مالز آج کھولے گئے جہاں عوام نے خریداری کی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر،کلفٹن،گلستان جوہرکےشاپنگ مالز میں شہریوں نے عیدخریداری کی، کہیں ایس او پیز پر عمل درآمد کیا گیا تو کہیں لاپرواہی کا مظاہرہ بھی ہوا۔

مزید پڑھیں: سندھ میں مالی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ

تاجر برداری نے سپریم کورٹ کے حکم پر ہفتے میں سات روز کاروبار کھولنے کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے رات دیر تک کاروبار کی اجازت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

کرونا از خود کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

اس سے قبل سپریم کورٹ میں کرونا از خود کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیے کہ ’دکانیں ہماری وجہ سے نہیں کھل رہیں بلکہ آپ کے انسپیکٹر اجازت پیسے لے کر اجازت دے رہے ہیں‘۔

چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے بڑی کرپشن کے ادارے سب رجسٹرار آفس کو کھول دیا،  این ڈی ایم اے شہروں میں کام کررہا ہے، ایک بار جوقرنطینہ سینٹر پہنچتا ہے وہ پیسے دیے بغیر واپس نہیں آسکتا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کا اعلان

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ہمیں کروناکےاخراجات نہیں،خدمات کےمعیارپر تشویش ہے، سندھ حکومت نے سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارےبند کردیے ہیں جہاں کرپشن کی میٹنگز ہوتی ہیں۔ جسٹس گلزار احمد کا مزید کہناتھا کہ ’پاکستان میں چین سے گھٹیا چیزیں منگا کر مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں