سندھ کے بلدیاتی انتخابات پرروایتی خاندانی سیاست حاوی -
The news is by your side.

Advertisement

سندھ کے بلدیاتی انتخابات پرروایتی خاندانی سیاست حاوی

شمالی سندھ کے آٹھ اضلاع میں اکتیس اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہونا ہےجس میں یونین کونسلوں، تعلقہ کونسلوں،ضلع کونسلوں اورمیونسپل کمیٹیوں کے لئے براہ راست کونسلروں، چیئرمینوں اوروائیس چیئرمینوں کا انتخاب کیا جائے گا۔ قبائلی اثرات میں جکڑے ہوئے سکھر اورلاڑکانہ ڈویژن میں ہونے والے انتخابات ہوں یا سندھ بھرکے دیہی علاقوں میں جمع ہونے والے کاغذات نامزدگی کا جائزہ لیتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ سندھ میں ہرسو روایتی سیاسی خاندانوں کا بلدیاتی اداروں پر بھی غلبہ ہوگا۔ یہ تو بالکل پہلی بارہی نظرآرہا ہے کہ سندھ کی ہر یونین کونسل میں حکمراں جماعت کے وزرا، اراکین اسمبلی، سینٹرزاور قبائلی طورپرطاقت ورمانے جانے والے افراد کے قریبی رشتے دار ہی بلدیاتی امیدوار ہیں۔ بیٹے، بھتیجے، بھانجے، بھائی، بیٹیاں، بھابھیاں، منشی، خاص کارندے ہی سندھ بھر میں چیئرمین اورکونسلرز بنیں گے۔

صرف یہی نہیں بلکہ آٹھ اضلاع میں لا تعداد با اثرافراد کے جانشین بلا مقابلہ ہی منتخب ہو چکے ہیں جیسے گھوٹکی میں علی گوہرمہر،علی محمد مہر،خالد احمد لوند، اور رحیم بخش بوزدار کے بیٹے، بھائی بلا مقابلہ کامیاب ہوگئے۔ جیکب آباد میں ہزار خان بجارانی،عابد سندرانی، کشمور میں سہراب سرکی، مقیم کھوسو، عابد سندرانی، سکھرمیں خورشید شاہ، اسلام دین شیخ اورناصرحسین شاہ کے بیٹے منتخب ہوگئے ہیں۔

لاڑکانہ میں نثار کھوڑو کی بیٹی نزاء کھوڑو، سہیل انورسیال کا بھائی طارق سیال، ایم پی اے سردارچانڈیو کے بھائی بھی بلا مقابلہ منتخب ہوکرآچکے ہیں،ان کے سامنے کسی نے بھی مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کی۔ دادو میں ایم این اے رفیق جمالی کے دو بھائی، نواب شاہ میں صوبائی وزیر طارق مسود آرائیں کے بھائی، اورسابق صدر کے کئی قریبی رشتے دار،بلا مقابلہ کونسلر یا چیئرمین منتخب ہوگئے۔ اب یہ ہی لوگ اگلے مرحلے میں ضلع کونسلوں کی چیئرمین شپ کے امیدوار ہوں گے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’آنے والے بلدیاتی انتخابات میں روایتی سیاست کا خاتمہ کیا جائے گا اور پارٹی کارکنوں کو بلدیاتی اداروں میں ٹکٹ دیئے جائیں گے‘‘۔ بلاول بھٹو کے ان الفاظ پر پیپلز پارٹی کے ٹکٹوں سے محروم اکثر کارکنوں کا یہ کہنا ہے کہ پارٹی پر قابض وڈیروں نے اپنے اپنے خاندانوں کو نوازنے کے لئے پارٹی چیئرمین کی پالیسی کو ناکام بنا دیا اس لئے سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کے دو دو گروپوں کے امیدوار ایک دوسرے سے ہی مقابلے کریں گے۔

سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے آٹھ اضلاع میں دو سو کے لگ بھگ امیدوار ایسے ہیں جو با اثر سیاسی خاندانوں کے با اثرامیدوار ہیں۔ یہ روایتی خاندانی سیاست صرف حکمران پارٹی میں ہی نہیں ہے بلکہ مخالف پارٹیوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ روایتی سیاسی حریفوں نے بھی ایک دوسرے کی اولادوں یا رشتے داروں کے سامنے مقابلہ نہیں کیا۔اس وجہ سے بڑے لوگوں کی اولادیں بلا مقابلہ منتخب ہوگئیں۔ شکارپور میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کے تین بھائی امیدوارہیں تو اسی ضلع میں پیپلز پارٹی کے مخالفین میں غوث بخش مہرکے دو بیٹے، امتیاز شیخ کے دو بیٹے اور مقبول شیخ کے دو بیٹے امیدوار ہیں۔ دادو میں اگرپیرمظہرالحق کا بیٹا میدان میں ہے تو مخالف پارٹی کے لیاقت جتوئی کے دو بیٹے اور بھائی میدان میں ہیں توعمران لغاری اور فیاض بٹ کے بھائی بھی امیدوارہیں۔ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ ( ف ) میں بھی روایتی خاندانوں کے بیٹے اوربھائی، بھتیجے امیدوارہیں۔ خیرپور میں منظور وسان اور قائم علی شاہ کے ہی رشتے دار امیدوار نہیں پیر پگارا کے خاندانی امیدوار اورمرید، خلیفے میدان میں ہیں۔

نوشہرو فیروز میں مراد علی شاہ کے دو بیٹے، سانگھڑ میں فدا ڈیرو، روشن جونیجو اور شازیہ مری کے قریبی رشتے دار تو مقابلے پرفنکشنل لیگ کے امام الدین شوقین اورجام مدد علی کے بھائی بھتجے میدان میں ہیں۔ مٹیاری میں مخدوم رفیق زماں اورمخدوم خاندان کے نوجوان امیدوارہیں تو جام شورو میں ملک اسد سکندر کے بھائی، ٹنڈو الہیارمیں عبدالستار بچانی کے بیٹوں کا راحیلہ گل مگسی کے بیٹوں سے ہوگا۔ مسلم لیگ ن کی سینٹر راحیلہ گل مگسی کے بھائی عرفان گل اور چھوٹی بہن ادیبہ گل نے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہےاور غالباً ان کی اولادوں کا بھی ایک دوسرے سے ہی مقابلہ ہوگا۔

سندھ میں جہاں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی سات سالہ کارکردگی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہے وہاں پیپلزپارٹی نے بلدیاتی انتخابات میں کارکنوں اورنئی قیادت کو آگے لانے کے بجائے سندھ کے بلدیاتی اداروں کی کمان بھی ان چند گنے چنے سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو گزشتہ سات سالہ سرکار میں اہم عہدوں پر رہے، یہ وہ ہی سیاسی خاندان ہیں جو کرپشن کی لپیٹ میں ہیں اوراب انہی کی اولادیں مقامی حکومتوں کی باگ ڈورسنبھالیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں