The news is by your side.

Advertisement

میاں بیوی لڑائی کا انوکھا مقدمہ لے کر عدالت پہنچ گئے

آپ نے فیملی کورٹس میں خاندانی جھگڑوں اور میاں بیوی کے درمیان ہونے والی چپقلش کے حوالے سے بہت سے مقدمات کے بارے میں پڑھا ہوگا۔

اس بار ایک ایسا مقدمہ دیکھنے کو ملا ہے جس کو دیکھنے والے خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئے، یو اے ای : متحدہ عرب امارات کی ریاستی عدالتوں میں میاں بیوی کے درمیان ٹریفک خلاف ورزیوں پر ہونے والے اختلافات کے مقدمات بھی پہنچنے لگے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق بیوی کی گاڑی سے شوہر اور شوہر کی گاڑی سے بیوی نے جو ٹریفک خلاف ورزیاں ہوئیں ان کے جرمانے کون ادا کرے اس پر معاملات عدالت تک پہنچ گئے۔

قانونی مشیر ڈاکٹر یوسف الشریف نے بتایا کہ بعض خواتین کی ٹریفک خلاف ورزیوں پر ان کے شہور غصے ہوجاتے ہیں، وہ ٹریفک خلاف ورزیوں پر ہونے والے جرمانوں کو بلاوجہ کا خرچ سمجھتے ہیں، نوک جھونک ہوتی ہے اور معاملہ بسا اوقات عدالت تک پہنچ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کسی کو بھی فریق ثانی کی غلطی کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا، ٹریفک خلاف ورزی انفرادی عمل ہے جو بھی اس کا مرتکب ہوگا اسی کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

اگر بیوی نے ٹریفک خلاف ورزی کی ہوگی تو جرمانہ شوہر کو نہیں بلکہ خود بیوی کو ادا کرنا ہوگا۔ شوہر جرمانہ جمع کراتا ہے تو یہ اچھی بات ہے تاہم قانونا وہ اس کا پابند نہیں۔ اگر معاملہ عدالت تک پہنچے گا تو شوہر جرمانے کا ذمے دار نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر یوسف الشریف نےکہا کہ ٹریفک خلاف ورزیاں شوہر کے ذمے مطلقہ کے نان نفقے کا حصہ نہیں، شوہر معاشی ضروریات پوری کرنے کا پابند ہے اگر مطلقہ ٹریفک خلاف ورزیاں کرتی ہے تو جرمانے بھی اسی کو دینا ہوں گے۔

اماراتی عدالتوں نے حال ہی میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر ہونے والی طلاق کا تنازعہ آیا تھا جسے نمٹا دیا گیا۔ پرائمری کورٹ نے مطلقہ خاتون کو حکم دیا کہ وہ اپنے سابق شوہر کے نام سے رجسٹرڈ گاڑی سے ہونے والی پندرہ ٹریفک خلاف ورزیوں کے جرمانے ادا کرے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں