کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر شہریوں پر چالان کی بھرمار ہونے کے بعد شہری سوال اٹھانے لگے ہیں کہ بنیادی سہولتوں سے محروم شہر میں چالانوں کا بوجھ کیوں بڑھایا جا رہا ہے، گھر چلائیں یا چالان جمع کرائیں؟
کراچی میں چند ماہ کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ٹریفک پولیس نے 70 کروڑ سے زائد کے چالان اور جرمانے کر دیے ہیں۔ جس پر شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر ٹریفک سگنلز خراب ہیں، سڑکوں پر لین مارکنگ واضح نہیں، جب کہ بعض جگہوں پر ٹریفک کی رہنمائی کے مناسب انتظامات بھی موجود نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹریفک پولیس چالان پر چالان کر رہی ہے۔
پاکستان میں فروخت ہونے والے 40 فی صد آئل پینٹ میں سیسہ کی کثیر مقدار کا انکشاف
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں، لیکن ٹریفک چالان وقت پر گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر میں سب سے زیادہ چالان اوور اسپیڈنگ، سیٹ بیلٹ نہ پہننے والے ڈرائیورز، موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہننے والوں کے کیے گئے ہیں۔ یکم جون سے لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے بھی چالان کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
سلمان لودھی اے آر وائی نیوز کراچی کے کرائم رپورٹر ہیں۔


