site
stats
صحت

ٹریفک جام سے شہروں میں جرائم کی شرح میں اضافہ

بڑے شہروں میں ٹریفک جام ایک معمول کی بات ہے۔ دفاتر اور مختلف کاموں کے لیے جانے والے افراد کو تقریباً روزانہ ہی ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام ہماری جسمانی، دماغی و نفسیاتی صحت پر بدترین اثرات مرتب کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹریفک جام کے وقت ہارن اور گاڑیوں کا شور، بھانت بھانت کے لوگوں کا شور، گاڑیوں کا دھواں، فضائی آلودگی وغیرہ یہ سب نہ صرف جسمانی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ لوگوں کے موڈ اور مزاج پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹریفک جام کے صحت پر بدترین نقصانات

علاوہ ازیں ٹریفک جام وقت کے زیاں کا سبب بھی بنتا ہے۔ امریکی ریاست ٹیکسس کے ٹرانسپورٹیشن انسٹیٹیوٹ کے مطابق بڑے شہروں میں ہر شخص سال میں اوسطاً 42 گھنٹے ٹریفک جام میں گزارتا ہے۔

حال ہی میں ماہرین نے ٹریفک جام کے ایک اور نقصان کی طرف اشارہ کیا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹریفک جام میں وقت گزارنا چونکہ ذہنی تناؤ، دباؤاور غصے کا سبب بنتا ہے، لہٰذا یہ کیفیات کسی بھی شخص کو لاشعوری طور پر جرم کی طرف مائل کرتی ہیں۔

تحقیق میں امریکی شہر لاس اینجلس کے ٹریفک کے بہاؤ اور وہاں کی پولیس کو درج کی جانے والی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا گیا کہ بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوئے۔

مذکورہ تحقیق میں بتایا گیا کہ گھریلو تشدد سمیت دیگر متشدد جرائم میں ملوث افراد جان بوجھ کر یہ نہیں کرتے، بلکہ یہ کام ان سے لاشعوری طور پر سرزد ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے۔

مزید پڑھیں: کیا آپ شور شرابہ کے نقصانات جانتے ہیں؟

ماہرین اس سے قبل بھی ٹریفک جام اور اس کے شور کے نقصانات سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بڑے اور پرشور شہروں میں رہنے والے افراد میں بڑھاپے سے قبل ہی بہرے پن کا قوی امکان موجود ہوتا ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے مطابق گاڑیوں کا دھواں کینسر سمیت متعدد جان لیوا بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top